بڑے بھائی نے چھوٹے کو 5 سال تک قید کیے رکھا، پولیس نے اسے نہلانے کو کہا تو بدبو کے باعث کوئی بھی قریب نہ آیا لیکن پھر ایک اے ایس آئی نے پنجاب پولیس کے سر فخر سے بلند کردیے

لودھراں ( آن لائن) جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں بڑے بھائی نے 2 ایکڑ زمین کے لالچ میں اپنے چھوٹے بھائی کو 5 سال تک قید کیے رکھا ۔ پولیس نے کارروائی کرکے نوجوان کو بازیاب کرایا اور جب ہمسایوں سے اسے نہلانے کو کہا تو بدبو کے باعث سب لوگ ناک پر کپڑا رکھ کر دور ہوگئے ، ایسے میں پنجاب پولیس کے اے ایس آئی نے خود متاثرہ نوجوان کو نہلاکر کپڑے پہنائے اور اس کے جوتے صاف کیے۔

پولیس کے مطابق جائیداد کا لالچ یا ذہنی معذوری سے تنگ آکر حقیقی بھائی نے پانچ سال قبل آئی کام کے طالبعلم افضل کو زنجیروں میں جکڑ کر کمرے میں قید کردیا اور پھر پانچ سال تک وہی قید خانہ اس معصوم کا بیڈ روم، کچن، ڈائننگ اور باتھروم بن کر رہ گیا۔

پولیس کو اطلاع ملی تو صدر پولیس لودھراں کے اے ایس آئی استقار گجر نے ڈی پی او ملک جمیل ظفر کی ہدایت پر اس غریب مقید کو رہا کروایا۔جب پولیس نے نوجوان کو دیکھا تو اس کے جسم میں کیڑے پڑ چکے تھے اور تعفن سے وہاں کھڑا ہونا محال تھا، پولیس نے ہمسایوں کو اس بازیاب ہونے والے نوجوان کو نہلانے کیلئے کہا تو لوگ ناک پر کپڑا رکھ کر دور جا کھڑے ہوئے ۔


مقامی لوگوں کے انکار کے بعد اے ایس آئی استقار گجر نے تمام تعفن اورگندگی کی پرواہ کئے بغیر باوردی حالت میں ہی اس نوجوان کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنائے ، اپنے ہاتھوں سے میلی گند میں اٹی جوتیوں کو صاف کرکے نوجوان کو پہنایا اور علاج کیلئے بہاولپور ہسپتال داخل کرادیا ۔

5 سالہ غلامی والی قید سے رہائی پانے والے نوجوان نے پولیس کی جانب سے بازیاب کرانے پر پولیس کا شکریہ ادا کیا اور انہیں سلیوٹ بھی کیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں