کپتان کی سٹریٹجی کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتی ہے، وزیراعظم کی ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے گفتگو

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں، کپتان کی سٹریٹجی کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتی ہے، وزیراعظم کی ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے گفتگو۔ وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات میں سیاسی، معاشی اور کرتارپور بارڈر سے متعلق معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ معلومات وہ شخص چھپاتا ہے جسے کوئی خوف ہوتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت شفاف ہو، سنسر شپ بری چیز ہے، اگرمیرا کوئی وزیرغلط کام کرتا ہے تو چاہتا ہوں وہ بے نقاب ہو۔
اعظم سواتی کیس
وزیراعظم کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ سو دن کے اندر تمام وزرا نے رپورٹس بھیج دی ہے، اسی ہفتے وزرا کی کارکردگی بارے فیصلہ کروں گا، ہو سکتا ہے کئی وزرا کو تبدیل کروں، تاہم اعظم سواتی کی جے آئی ٹی رپورٹ ابھی مجھے نہیں ملی، اعظم سواتی کیس میں کوئی مداخلت نہیں ہو رہی، اگر اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو خود استعفیٰ دیں گے۔ بابر اعوان کیخلاف ریفرنس آیا تو انہوں نے خود استعفی دیا، کسی کو بچانے کے لیے مداخلت نہیں کریں گے۔

’کرتارپور راہداری
وزیراعظم نے کرتار پور راہدری پر وزیر خارجہ کے گوگلی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’ یہ فیصلہ ان کی گوگلی نہیں تھی بلکہ سیدھا سادھا فیصلہ تھا، شاہ محمود کا مطلب تھا کہ بھارت میں الیکشن آرہے ہیں، وہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم نے نفرت پھیلانےکا منصوبہ روکنے کے لیے کرتارپور کوریڈور کھولا ہے لہٰذا نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنانے کو گوگلی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ ہم نے دھوکا یا ڈبل گیم کیا ہے‘۔ 

قومی ادارے خسارے میں
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اور ریلوے سمیت تمام قومی ادارے خسارے میں ہیں، ہماری پالیسی ہے کہ ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے اداروں کو پیشہ وارانہ انداز میں چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے خسارے باوجود موجودہ حکومت نے زبردست کام کیا، آئندہ دنوں میں پاکستان میں استحکام دیکھیں گے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کیا عثمان بزدار کسی پولیس افسر کو بلا کر اس سے پوچھ نہیں سکتا؟ چیف جسٹس کے اقربا پروری کے ریمارکس پر افسوس ہوا، عثمان بزدار نہیں بلکہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ آئی جی پنجاب نے کیا تھا، چیف منسٹر پنجاب کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔
پاکستان میں پہلے کبھی حکومت میں ہوتے ہوئے کسی کیخلاف انکوائری نہیں ہوتی تھی، پاناما انکشافات کے دوران کسی ادارے نے نواز شریف کیخلاف تحقیقات نہیں کی۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب نے شکایات ملنے پر پولیس افسر سے پوچھ گچھ کی، کیا عثمان بزدار کسی پولیس افسر کو بلا کر اس سے پوچھ نہیں سکتا؟

آزاد میڈیا کا کردار
قومی اسمبلی اور آزاد میڈیا چیک کے لیے ہوتا ہے، اگر کوئی وزیرٖ غلط کام کر رہا ہے تو اسے بے نقاب ہونا چاہیے، ایسا نظام لانا چاہتا ہوں جس سے نچلے طبقے کے لیے بہتری ہو، پاکستان میں سارا نظام ہی ایک طبقے کے لیے ہے۔ سینسرشپ بری چیز ہے، جمہوریت اورآمریت میں فرق ہوتا ہے، جمہوریت میں کوئی چیز نہیں چھپائی جا سکتی، معلومات وہ چھپاتا ہے جسے کوئی خوف ہو۔

ڈالر کی قدر سے متعلق
دوران وزیراعظم نے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے متعلق بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے بھی جب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا تو ان کو علم نہیں تھا اور گزشتہ روز بھی انہیں اس حوالے سے ٹی وی سے پتا چلا، روپے کی قدر اسٹیٹ بینک نے گرائی تھی جو ایک اتھارٹی ہے اور خود یہ کام کرتے ہیں، انہوں نے ہم سے اس حوالے سے نہیں پوچھا لیکن اب ہم میکنزم بنارہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر روپے کی قدر نہ گرائے‘۔
سرمایہ کاری اور بزنس مین طبقے کو سہولیات دینے کا عزم
ملک میں چھوٹی اور درمیانی صنعتیں ختم ہو گئی ہیں۔ ہم سرمایہ کاروں کی مدد اور بزنس مین طبقے کیلئے سہولیات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ برازیل اور امریکا لائیو سٹاک میں بہت زیادہ پیسہ کما رہے ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھی کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات پیدا کرو۔

پی اے سی کی چیئرمین شپ
قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’آج قائمہ کمیٹیاں بنارہے ہیں جب کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر اپوزیشن تعاون نہیں کررہی، اگر اپوزیشن کا تعاون نہیں رہا تو پی اے سی کا چیئرمین شہبازشریف کی بجائے اپنے طورپر کسی کو بنائیں گے‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن نہیں آتی تو ہم کمیٹیاں بنادیں گے، 10 سال میں میثاق جمہوریت کے نام پر ملک کولوٹا گیا، پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابی شکایات سےمتعلق پارلیمانی کمیٹی بنادیں گے، ہم نے اپوزیشن پر ایک کیس نہیں کیا یہ ماضی کے کیسز ہیں، مجھے کسی سے خوف نہیں کسی سے ڈر نہیں۔
حامد میر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبے کے سوال پر واضح جواب نہیں دیا اور گزشتہ روز آصف زرداری کی تنقید پر انہوں نے سابق صدر پر شدید تنقید کی۔

کرپشن کے خاتمے کا عزم
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم فیصلہ کرے کہ کیا کرپشن کا نظام چلنے دینا ہے؟ تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں کرپشن نہیں ہوتی، جہاں زندگی بہتر وہاں بدعنوانی نہیں ہوتی، کرپشن کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر سکتا، میری کسی سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، کرپشن کو ختم کرنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ابھی تو ہم نے کسی کیخلاف کیس نہیں بنایا لیکن مخالفین نے پہلے ہی شور مچا دیا کیونکہ وہ ڈرے ہوئے ہیں، جس سطح کی کرپشن ہوئی، مجھے بھی اندازہ نہیں تھا، انہیں پتا ہے یہ پکڑے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کیسز میں دیر کی وجہ سے خود تنگ ہوں، بدعنوانی سے کمایا ہوا پیسہ ملک میں واپس آئے گا اور آنے والے دنوں میں بڑے ڈالر آئیں گے۔

نیب کی کارکردگی پر سوال
وزیراعظم نے ایک بار پھر قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹس گوسلو پالیسی پر لگے ہوئے ہیں کہ حکومت زیادہ دیر نہیں چلے گی، اگر نیب میرے انڈر ہوتی تو پچاس بڑے لوگ جیلوں میں ہوتے، نیب چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہاتھ ڈال رہا ہے، بڑے لوگوں کو جب کرپشن پر پکڑا جاتا ہے تو نیچے لوگ خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

منی لانڈرنگ کیخلاف سخت قوانین لانے کا اعلان
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قانون لا رہے ہیں، ہمیں تباہ حال معیشت ملی، ڈالر کا بڑھنا یا کم ہونے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے لوگ نام سامنے آنے سے ڈر رہے ہیں، گو سلو پالیسی والے افسران کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اگر اپوزیشن ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے، شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے۔

جنوبی پنجاب صوبہ
وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا ایک لمبا مرحلہ ہے، ہو سکتا ہے ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوں، آنے والے 10 دنوں میں وزارتوں میں بھی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

معاشی صورتحال

ملکی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں تباہ حال معیشت ملی، ڈالر کا بڑھنا یا کم ہونے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

مسئلہ کشمیر
انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں، دونوں حکومتیں چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے یوٹرن کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ یوٹرن عظیم لوگ ہی لیتے ہیں۔

سوئس اکاؤنٹس
انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر پاکستانیوں کا اربوں روپیہ بیرون ملک ہے، یہ اسی وجہ سے ڈرے ہوئے ہیں، ہمیں ساری معلومات مل رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاناما انکشافات کے بعد لوگوں نے سوئٹزرلینڈ سے پیسے نکلوا لیے تھے، ہم نے سوئٹزرلینڈ سے پچھلے پانچ سال کا ڈیٹا مانگا ہے۔ سابق وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر دفاع نے اقامے لیے ہوئے تھے، دبئی کی شہریت کی وجہ سے ان کی معلومات نہیں ملیں، اب معلوم ہوا ہے کہ ان لوگوں نے اقامے کیوں لیے تھے؟
 
این آر او کس نے مانگا
این آر او کس نے مانگا کے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم الیکشن جیت کر آئے، مجھے پہلے ہی دن تقریر نہیں کرنے دی گئی، پہلے ہی دن پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر دیا تھا، میرا جرم کیا تھا؟
وزیراعظم نے کہا کہ بتایا جائے کونسا غلط کام کیا ہے؟ یہ احتساب کو انتقامی کارروائی کہتے ہیں، ایک کیس میرے دور میں نہیں بنایا گیا، اگر میں جمہوریت کے لیے آج کہہ دوں اکٹھے چلیں گے تو ان کے لیے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، مجھے کسی کا خوف یا ڈر نہیں ہے، حکومتی منشور کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں