اقوام متحدہ کے متعلق ایک ایسی ناقابل یقین خبر سامنے آئی کہ ہر کوئی حیران رہ گیا، اگر آپ بھی جاننا چاہتے ہیں تو یہ خبر ضرور پڑھیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ادارے کو 23 کروڑ ڈالر کے مالیاتی خسارے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اکتوبر کے اواخر تک اکاؤنٹ خالی ہوجائے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ کے 37 ہزار ملازمین کو لکھئے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور ضروری ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ’اضافی خلا کو پُر کرنے کے لیے اقدامات‘ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

تاہم مراسلے میں اقدامات سے متعلق واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے 2019 کے بجٹ آپریشن کے لیے مجموعی رقم میں سے 30 فیصد ادائیگی نہیں کی گئی۔

اس ضمن میں انہوں نے مزید بتایا کہ عدم ادائیگی کے باعث ستمبر کے اواخر تک 23 کروڑ ڈالر نقد رقم کی کمی کا سامنا رہا تاہم مالیاتی ذخائر سے ادارے کے امور مکمل کیے جارہے ہیں جو رواں ماہ تک ختم ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اخراجات میں کمی لانے کی غرض سے متعدد کانفرنسز اور اجلاس ملتوی کیے گئے اور حکام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے روک دیا گیا‘۔

اقوام متحدہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتا کہ جنرل سیکریٹری نے رکن ممالک سے رواں برس کے آغاز میں رقوم سے متعلق مسائل ختم کرنے کے لیے ادائیگی یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’مالیاتی مسئلہ دور کرنے کی بنیادی ذمہ داری رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے‘۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا سالانہ بجٹ 5 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے اور امریکا مذکورہ بجٹ کا 22 فیصد ادا کرتا ہے۔

مذکورہ بجٹ میں امن مشن کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

ستمبر 2017 میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا تھا کہ ‘حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ نوکر شاہی اور بدانتظامی کے باعث اپنے اہداف تک مکمل طور پر نہیں پہنچ پائی ہے اور ہمیں اس طرح نتائج دکھائی نہیں دے رہے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکا، اقوام متحدہ کو فعال کردار ادا کرنے کے لیے سب سے زیادہ حصہ ادا کرتا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں سالانہ اجلاس میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے دنیا کی 193 اقوام کی تنظیم کو نوکر شاہی اور اخراجات کو کم کرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنے مشن کو واضح انداز میں چلانے پر زور دیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں