بھول جائیں کہ سارے ادارے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کو خبردار کر دیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک) سینئرتجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ بھول جائیں کہ سارے ادارے آپ کیساتھ کھڑے ہیں،دھرنے میں مائنس ون کی بات کی جائے گی،الیکشن نہ ہوئے توان ہاؤس تبدیلی کابھرپور مطالبہ کیا جائے گا،قانونی نوٹسز سے دھرنا نہیں رکے گا،ن لیگ کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں سے عمران خان کی پارلیمانی پوزیشن کمزور ہوگی۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو دوباتیں کرناہوں گی، ایک حتساب ، احتساب ایک الگ معاملہ ہے جس کا تعلق نیب ، آئین اور عدالتوں ساتھ ہے دوسراطرزحکمرانی اور گورننس ہے۔حکومت کا احتساب سے تعلق نہیں ہے۔احتسابی ادارے آزادہیں، اگر حکومت پانچ ہزارلوگوں کو بھی جیل میں ڈال دیں تو کیا روٹی سستی ہوجائے گی؟ ڈینگی کنٹرول ہوجائے گا؟احتساب اور حکومت دونوں مختلف چیزیں ہیں۔

عمران خان نے یقینا لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ عمران خان نے بیان بھی دیا ہے۔پہلے یہ تھا کہ دھرنا ہوگا ہی نہیں لیکن اب وزراء بیان دے رہے ہیں کہ دھرنا ناکام ہوجائے گا،اسٹیبلشمنٹ ہمارے ساتھ ہے۔ 12اکتوبر سے جب نوازشریف ایٹمی دھماکوں کے بعد دورہ امریکا پر گئے توامریکیوں نے انہیں بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔ہم آپ کے ساتھ ہیں، جبکہ جب نوازشریف واپس آئے تو انہوں نے مشرف والا فیصلہ کیا اور 12اکتوبر ہوگئی اور حکومت جاتی رہی۔

پنڈی میں جی ایچ کیو میں 12اکتوبر کی صبح جو پہلی شخصیت ملنے گئی وہ امریکی سفیر تھے۔اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے دیکھا جاسکتا ہے۔اسی طرح 2003ء میں مشرف چند اپنے رفقاء کے ساتھ بیٹھے۔مشرف نے کہا کہ ایسی صورتحال بناتے ہیں آئندہ مارشل لاء نہ لگے، پارلیمنٹ بنا کرے اور پالیمنٹ کے اندر ہی تبدیلی آجایا کرے۔مشرف کی پارلیمنٹ نے تین وزراء اعظم کے ساتھ اپنے پانچ سال پورے کیے۔

پھر لال مسجد واقعہ، وکلاء تحریک شروع ہوئی۔لیکن ایسی صورتحال بن گئی کہ بے نظیر ملک میں پہلے آگئی۔اور مشرف نے ایمرجنسی لگا دی۔ اس دوران بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوگئی۔مشرف کو مشورہ دیا گیا کہ الیکشن ایک سال کیلئے ملتوی کروادیں۔ لیکن پھر الیکشن ہوئے اورپارلیمنٹ نے پانچ سال پورے کیے۔ پھر الیکشن ہوئے اوردووزراء اعظم کے ساتھ پارلیمنٹ نے اپنے پانچ سال پورے کیے۔

انہوں نے کہا کہ جو شخصیات الیکشن کروانے کی بات کررہی ہیں،مولانا فضل الرحمان الیکشن کے ساتھ مائنس ون کی بات کررہے ہیں، عمران خان کے علاوہ کوئی بھی قبول ہوسکتا ہے۔وہ کہتے ہیں ان ہاؤس تبدیلی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین کی آج ملاقاتیں ہوئی ہیں،قائمہ کمیٹیوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب بل کا مسودہ ہی تیار نہیں ہوسکے گا۔اس سے عمران خان کی مضبوطی کمزور ہوتی جارہی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں