مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر 100ارب کا خرچہ کون کرے گا۔۔۔اہم سوالات اُٹھا دیے گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو مارچ اور دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے حالیہ ویڈیو پیغام میں سینئیر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے کئی سوالات اُٹھا دئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ملین مارچ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دس لاکھ افراد کو اپنے ساتھ مارچ اور دھرنے میں شامل کر لیں گے۔

مولانا صاحب تو 15 لاکھ کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ دس لاکھ لوگ لے آتے ہیں تو بلا شُبہ وہ منظر غیر متوقع ہو گا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ مبشر لقمان نے کہا کہ میں نے پاکستان ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن والوں، جن میں ٹرک ، گاڑیاں اور بسیں بھی ہیں، کے کچھ عہدیداروں سے بات کی تو اُن کے خیال میں دس لاکھ لوگوں کو لے جانے کے لیے تقریباً پچیس ہزار بسیں درکار ہوں ، ابھی اس میں پرائیویٹ گاڑیوں کا تخمینہ نہیں لگایا گیا۔

اگر بیس ہزار لوگ پرائیویٹ گاڑیوں میں آجائیں گے تو دس لاکھ لوگوں کو تو بسوں میں لانا پڑے گا ۔ اگر ایک بس کا کرایہ 15 ہزار روپیہ ہو تو پچیس ہزار بسوں کا کرایہ کئی ملین ڈالر بن جائے گا۔ یہ تقریباً ڈھائی ملین ڈالر بنتا ہے۔ میں جو ٹرانسپورٹرز سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اُن کے پاس کوئی بُکنگ نہیں کروائی گئی، کیونکہ اگر پاکستان میں پچیس ہزار بس بُک ہو رہی ہو تو پاکستان کے ہر شہر سے بس وغیرہ بُک ہونا شروع ہو جاتی ہے جو تاحال نہیں ہوئی۔

مارچ میں آنے والے لوگوں کے کھانے کا اگر تخمینہ لگایا جائے تو سستے سے سستا بھی ہم نے ساٹھ روپے فی کس خرچ لگایا ہے ، اور اس مناسبت سے ایک ملین لوگوں کا ایک دن کا کھانے کا خرچ 60 کروڑ روپے آئے گا۔ اگر ایک مہینے کا دھرنا ہوا تو تقریباً 18 ارب روپے کا بنیادی کھانا چاہئیے۔ فرض کر لیں کہ کھانا بنانے کے لیے باورچی ہوں گے، اس کے لیے کتنے چولہے چاہئیں ہوں گے، کتنے گیس سلنڈرز چاہئیے ہوں گے، دیگچی، چمچے کتنے چاہئیے ہوں گے، یہ سب کچھ اُس کے علاوہ ہے۔

ایک سلنڈر کی اوسط قیمت 6000 روپے ہے ، اب اگر دس لاکھ لوگوں کے لیے دن میں تین وقت کھانا لگے گا تو اس کے لیے کئی لاکھ چولہے بھی ہوں گے جن پر کھانا بنے گا۔ جب اتنے لوگ تین وقت کھانا کھائیں گے، تو انہیں باتھ روم کا استعمال بھی درکار ہو گا ، اس کے لیے بھی سوچیں کہ دس لاکھ لوگوں کے لیے ایک وقت میں کتنے لاکھ ٹوائلٹس چاہئیے ہوں گے۔ اگر 15 ، 20 یا 25 ہزار روپے کا ایک ٹوائلٹ مینوفیکچر ہو گا۔

ایسے میں دس لاکھ لوگوں کا فضلہ پانچ ہزار من ہو گا۔ اس فضلے کا ڈسپوزل پلان کیا ہے ؟ اس کے لیے تو منتظمین کو ٹرکس بھی لانا پڑیں گے ، وہاں طہارت کے لیے پانی بھی درکار ہو گا۔ اس سب کا اگر حساب لگایا جائے تو یہ سب ملین ڈالرز تک چلا جاتا ہے۔ مبشر لقمان نے سوال اُٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ کیا وہ اپنے ذرائع آمدن بتانا پسند کریں گے ؟ یہ ایک بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے ، پاکستان تحریک انصاف نے جب دھرنا کیا تھا تو میں نے بھی اِس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عمران خان نے لوگوں کو کہا تھا کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور کل دوبارہ واپس آئیں اور لوگ آتے تھے۔ کیا مولانا کی بسیں ملک بھر سے آئے لوگوں کو روز واپس چھوڑنے جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی فنڈنگ مولانا کو کون کر رہا ہے؟ کیونکہ مولانا کے ممکنہ مارچ اور دھرنے پر آنے والے اخراجات کافی زیادہ ہیں۔ ابھی ان اخراجات میں رات کو سونے کے سازو سامان کا تخمینہ نہیں لگایا گیا۔ مبشر لقمان نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں