100 افراد کے قاتل ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر کے سنسنی خیز انکشافات۔۔

کراچی (ویب ڈیسک) : 100 سے زائد افراد کے قاتل نے ایم کیو ایم کو حالات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔تفصیلات کے مطابق قتل کی وارداتوں میں سنچری کرنے والے ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر عبداسلام نے اپنے ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔گرفتار ملزم نے اپنے ویڈیو بیان میں پولیس ،سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں اور سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ملزم نے اعترافی بیان میں کہا کہ آج وہ جس حالت میں ہے اس کے ذمہ دار ایم کیو ایم لندن کے بانی ہیں۔ٹارگٹ کلر کے مطابق میری ٹیم میں ندیم کے ماربل کے علاوہ گیارہ ٹیم ممبر تھے۔جن میں سے چار ساتھی مارے گئے۔باقی پکڑے گئے،ٹارگٹ کلر ٹیم کے انچارج ناچی ماربل نے میری نوکری عباسی شہید اسپتال میں لگوائی تھی جہاں سے 21ہزار 500روپے تنخواہ ملتی تھی۔

ملزم نے بتایا کہ اس نے پولیس اہلکار ،پولیس کے مخبر اور سیکویرٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنایا۔بدھ کو ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گرفتار ملزم افغانی اسٹریٹ کرمنل ہے، جس کا ساتھی قاری بشیر افغانی تاحال فرار ہے، پولیس مفروضہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

ملزمان نے گزشتہ ہفتے گلشن اقبال میں موچی موڑ پر اسٹریٹ کرائم کی واردات کے دوران فائرنگ کرکے طالبہ مصباح کو قتل کردیا تھا۔ گرفتار ملزم کے مطابق وہ ایک سال پہلے تک اس علاقے میں کچرا چنتا تھا جس کے بعد ملزم گاڑیوں کی بیٹریاں چوری کرنے لگا، پانچ ماہ قبل ملزم نے اپنے ساتھیوں فضل، نعمت اور قاری بشیر کے ساتھ مل کر اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں شروع کیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان کا یہ گروہ گلشن اقبال، گلستان جوہر، مبینہ ٹاون، شارع فیصل، بہادرآباد، عزیزبھٹی، سچل سائٹ اور سپر ہائی وے کے علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کرچکا ہے۔ملزم سے متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ اس کا گروہ 22 افراد پر مشتمل ہے۔ملزم عبداسلام نے رہائی کے بعد عباسی شہید اسپتال میں نوکری کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے 111 قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

ملزم 5 لڑکیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر چکا ہے۔ملزم نے مخبری کے شبے میں 57 لوگوں کو قتل کیا۔ملزم 3 بار گرفتار ہو کر پیرول پر رہا ہو چکا ہے۔پولیس سے بچنے کے لیے ملزم مذہبی جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ملزم نے کچھ عرصہ قبل اپنا حلیہ تبدیل کر کے تبلیغ پر چلا گیا تھا۔ ۔ملزم 12 مئی 2007ء کے واقعے میں بھی ملوث تھا۔ واضح رہے کہ مصباح اطہر ہمدرد یونیورسٹی میں تھرڈ ائیر کی طالبہ تھی، وہ گزشتہ جمعرات کی صبح 7بجکر 5 منٹ پر اپنے والد کیساتھ گھر سے کار میں بیٹھ کر اسٹاپ پر یونیورسٹی کے پوائنٹ کے انتظار میں تھی کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار مسلح ملزمان آئے اور اس کے والد سے لوٹ مار کی اور دوران فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گولی مصباح کی آنکھ کے قریب لگی تھی، جس کے نتیجے میں مصباح شدید زخمی ہوئی تھی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں