عمران خان کے ارد گرد موجود ان تین لوگوں کی ٹرائیکا وزیراعظم کی ساری کوششوں پر پانی پھیر رہی ہے ؟ حمایتی کالم نگار ارشاد بھٹی نے کسی کا لحاظ کیے بغیر بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) وعدے، دعوے، توقعات اپنی جگہ، کامیابیاں، ناکامیاں، نالائقیاں، عقلمندیاں اپنی جگہ، یہ کریڈٹ تو دیں کہ پہلی حکومت جو 100دنوں بعد عوامی عدالت میں پیش ہو گئی، ورنہ پہلے کس نے خود کو جوابدہ سمجھا؟ کون سی حکومت جس نے خود کو پیش کیا؟ یہاں تو جس نے بھی عوامی عدالت لگائی، آل بچاؤ، مال بچاؤ کیلئے ہی لگائی۔

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے 100دنوں کی مایوسیاں، تحریک انصاف right people for the right jobلگانے میں ناکام رہی، 22سالہ اپوزیشن کاٹ کر ’ہوم ورک‘ صفر، معاشی اقدامات سے مایوسی ہوئی، بلاشبہ معاشی دلدل میں ڈوبا پاکستان ملا، 100دنوں میں ملک نے کوئی ایشین ٹائیگر بھی نہیں بن جانا تھا مگر 100دنوں میں تو اسد عمر ’مایوس‘ ہی نکلے، ڈالر کو یوں پَر لگے اور روپیہ ایسے مٹیو مٹی ہوا کہ ایک دھیلا قرضہ نہ لیا، اربوں کا قرضہ چڑھ گیا، مہنگائی کے جھکڑ چل رہے، سرکلر ڈیٹ ریکارڈ حد تک بڑھ چکا، حکومتی حالت اتنی پتلی کہ اپنے بینکوں نے 2سو ارب کا کمرشل قرضہ دینے کیلئے 43پاور کمپنیوں کی پراپرٹیز گروی رکھنے کا کہہ دیا، ایف بی آر کا چار ماہ کا شارٹ فال 68ارب، سعودی امداد، چین، ملائیشیا کی تسلیاں دھری کی دھری رہ گئیں، وزیر خزانہ اسد عمر، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ، چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان پر مشتمل معاشی ٹیم نکمی یا کنفیوژ یہ کہنا قبل از وقت، لیکن 100دن یہ طے کر گئے کہ وژن تھا نہ کوئی معاشی پلان۔ سیاسی مداخلت سے پاک اور آزاد پولیس کا نعرہ، مایوسی ہوئی، ڈی سی دریشک معاملہ، ڈی پی او پاکپتن ایشو، پنجاب، اسلام آباد آئی جیز تبادلے، ڈی سی گوجرانولہ تبادلہ، اعظم سواتی گائے اور آر پی او، ڈی پی او سیالکوٹ کو منٹوں، سکنٹوں میں فارغ کر دینا،

یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا، اوپر سے آزاد پولیس کے سرخیل ناصر درانی تبدیلی ریلے میں بہہ گئے، نیا صوبہ ابھی تک منصوبہ ہی، ادارہ جاتی، بیورو کریسی اصلاحات، دوچار میٹنگز ہی ہو پائیں، وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد، پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور کل فواد حسن فواد کے چہیتے آج سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر کا ٹرائیکا میرٹ کا سوا ستیاناس کر چکا، بیورو کریسی میں مایوسی پھیلی ہوئی، 50لاکھ گھر، کروڑ نوکریاں کنفیوژن کے رحم و کرم پر، سینیٹ، قومی اسمبلی، ٹی وی چینلوں پر تبدیلی شہسوار خواہ مخواہ کی زبان درازیوں، لڑائیوں اور بونگیوں میں الجھے ہوئے، بھلا جو اسٹیٹس کو توڑ کر آئے ہوں، ایجنڈا ’چاند تارے توڑ نے والا‘ ہو، وہ ایسے فضول کاموں میں وقت، انرجی ضائع کرتے ہیں؟ اب 100دنوں کی اچھی اچھی باتیں، خوشی ہے وزیراعظم نے 100دنوں میں انتھک محنت کی، 18اٹھارہ گھنٹے کام کیا، بااختیار کابینہ بنائی، 100دنوں میں 13کابینہ کے اجلاس ہوئے، یاد رہے کہ نواز شریف نے دو سالوں میں 12کابینہ اجلاس بلائے، خوشی ہے وزیراعظم نے موجیں کیں نہ موجوں بھرے دورے کئے، 5سال بعد متحدہ عرب امارات سے تعلقات بحال ہو چکے، سعودی عرب، چین، ملائیشیا سے تعلقات میں بہتری آ چکی، خارجی محاذ پر تنہائی کی برف پگھل رہی،

خوشی ہے سادگی مہم جاری، احتساب کا عمل جاری، لٹی دولت واپس لانے پر فوکس قائم، خوشی ہے مکار، چالباز، زبان درازوں اور رنگ برنگے چوغوں میں بنارسی ٹھگوں کی ہال دہائی کے باوجود کرپشن کیخلاف مہم جاری، ’ایسڈ ریکوری‘ یونٹ بن چکا، 26ملکوں کیساتھ لٹی دولت کی معلومات تبادلے پر معاہدے ہو چکے، خوشی ہے حکومت نے کفر و قتل کے فتوے دینے، بغاوت پر اکسانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا، مقدمے قائم کئے جا رہے، خوشی ہے کہ ساڑھے 3سو ارب کی زمین قبضہ گروپوں سے چھڑوائی، خوشی ہے ہیلتھ کارڈ اسکیم، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا دیا گیا، چھوٹے کسانوں تک ٹیکنالوجی، نالج، پیسہ پہنچانے پر کام جاری، باہر پڑے 11ارب ڈالر اور 375ارب مالیت کے جعلی اکاؤنٹس کا پیچھا ہو رہا، خوشی ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح ہوا، یہ پاک بھارت کیلئے، پونے دو ارب انسانوں اور 12کروڑ سکھوں کیلئے بہت بڑا قدم، بابا گرو نانک کے 549ویں جنم دن کے موقع پر جب عمران خان نے راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تو گزشتہ 10سالوں میں پہلی بار بھارت دفاعی پوزیشن پر نظر آیا، بھارتی وزرا، دونوں ملکوں کے صحافیوں اور سکھوں کے روحانی پیشواؤں کی موجودگی، دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بہتر ہوا،

بلاشبہ پاک فوج، سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بھی لائقِ تحسین، خوشی ہے وزیراعظم، آرمی چیف نے صدر ٹرمپ کو ان کی زبان میں جواب دیا اور ایسا جواب دیا کہ پہلی دفعہ وضاحتیں پاکستان کو نہیں امریکہ کو کرنا پڑیں۔ یہ تو 100دنوں کی اچھی، بُری باتیں، استاد محترم حسن نثار کی یہ بات ٹھیک کہ 100دنوں میں ہتھیلی پر سرسوں اگنے سے رہا، ہتھیلی بھی ابن انشاء کی چھیدوں بھری جھولی کی طرح، یہ بھی درست مسائل، مصائب کے پہاڑ، لیکن یہ بھی سچ، عمران خان کے وعدے، دعوے کہ توقعات اتنی ہوئیں، یہ کپتان کے 100دنوں کے اہداف ہی، جن پر بھانت بھانت کی تنقید ہو رہی، عمران خان وعدے، دعوے نہ کرتے، 100دنوں کے اہداف نہ رکھتے تو سندھ کو قبرستان بنا چکی پی پی باتیں نہ کر رہی ہوتی، سالہا سال اقتدار کے مزے لُٹ کر بجلی، سڑکوں کے علاوہ تیسرا کام نہ کر سکنے والی مسلم لیگ وائٹ پیپر نہ جاری کرتی، میڈیا ’تبدیلی ہانڈی‘ کو بارہ مسالوں کا تڑکا نہ لگاتا، گو کہ ابھی سوا تین ماہ ہی ہوئے، پونے 57ماہ باقی، لیکن 100دنوں کو دیکھ کر مطلب تبدیلی دیگ کا نمک مرچ چکھ کر یہ پتا تو چل ہی گیا کہ موجودہ بیورو کریسی ٹیم کیساتھ کپتان میچ نہیں جیت سکتے،

موجودہ سیاسی ٹیم کے چند کھلاڑی بھی ٹیسٹ پلیئر جبکہ میچ ٹونٹی ٹونٹی کا، پھر خارجی، داخلی مسائل الگ، نئے قرضے لینے، پرانے چکانے، قرضوں کا سود، امپورٹ ایکسپورٹ، ڈالر، روپیہ، مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان، گھمن گھیریاں الگ اور اس سے بھی بڑا چیلنج چوروں، ڈاکوؤں، لیٹروں کا احتساب، لٹے مال کی واپسی، وہ بھی اس ملک میں جہاں چور دروازے، پتلی گلیاں اتنی کہ عدالتوں کا conviction rate پانچ فیصد جبکہ نیب کا 10فیصد یعنی 100میں 5سے 10فیصد مجرم ہی منطقی انجام تک پہنچ پائیں۔ یہ بھی سن لیں، باتیں ہو رہیں گیس لوڈشیڈنگ کی، مزید مہنگائی، نئے ٹیکسوں کی، اوپر سے حکومتی منصوبہ بندی یہ کہ ہاؤسنگ کے 25محکموں کے ہوتے ہوئے 50لاکھ گھروں کیلئے نئی ہاؤسنگ اتھارٹی بنائی جا رہی، تمام صوبوں، جماعتوں کے متفقہ نیشنل ایکشن پلان کے ہوتے ہوئے نئے ایکشن پلان کی باتیں ہو رہیں اور منصوبہ بندی یہ کہ 100دنوں میں شیخ رشید نے 10نئی ٹرینیں چلائیں، دس کی دس خسارے میں چل رہیں، مانا کہ نیتیں ٹھیک، مگر منزلیں صرف صاف نیتوں سے نہیں ملا کرتیں، مانا کپتان کچھ کرنا چاہ رہے، مگر چاہنے اور کر جانے میں زمین آسمان کا فرق، مانا عوام ابھی تک تبدیلی نعرے کے ساتھ، مگر عوام کیساتھ پیٹ بھی لگا ہوا، عوام کے بیوی بچے بھی، مانا مشکلوں کے بعد ہی آسانیاں، مگر کتنی مشکلیں اور، مانا ہر قوم نے قربانیوں کے بعد ہی منزل پائی، مگر کتنی قربانیاں اور، مانا کپتان کو 70سالہ گند صاف کرنا پڑ رہا مگر گند پر گند ڈالنا کہاں کی عقلمندی، خیر! آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، ابھی تو پکچر شروع ہوئی ہے، آخر پر بات وہی کہ دعوے، وعدے اپنی جگہ، کامیابیاں، ناکامیاں، نالائقیاں، عقلمندیاں اپنی جگہ، یہ کریڈٹ تو دیں کہ پہلی حکومت جو 100دنوں بعد عوامی عدالت میں پیش ہو گئی، ورنہ پہلے کس نے خود کو جوابدہ سمجھا؟ کون سی حکومت جس نے خود کو پیش کیا؟ یہاں تو جس نے بھی عوامی عدالت لگائی آل بچاؤ، مال بچاؤ کیلئے ہی لگائی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں