ملیشیا فورس انصارالاسلام, حکومت نے ایسا موقف دے دیا جسے جان کر آپ کو بھی یقین نا آئے گا

جمیعت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس انصارالاسلام سے متعلق حکومت نے اہم بیان دے دیا۔

حکومت کا جمیعت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس انصارالاسلام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جے یو آئی ف کی ذیلی جماعت کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں وزارت داخلہ نے انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کی سمری الیکشن کمیشن اور وزارت قانون کو بھجوائی تھی جس میں کہا گیا کہ باوردی فورس نے خاردار تاروں سے لیس لاٹھیاں اٹھاکر پشاور میں مارچ کیا اور باوردی فورس بظاہر حکومتی رٹ چیلنج کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ سے بھی منظوری لے لی ہے، وفاقی حکومت نے آرٹیکل 146 کے تحت وزارت داخلہ کو صوبوں سے مشاورت کا اختیار دے دیا جب کہ وفاقی کی ہدایت پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو ہر قسم کی کارروائی کا اختیار ہوگا، قانون کے مطابق انصارالاسلام پر پابندی عائد کی جائے گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انصار الاسلام نامی کوئی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہی نہیں اور کسی بھی جماعت کو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا وزارت داخلہ کا صوابدید ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کو کالعدم قرار دینا ہوتو معاملہ وزارت داخلہ کو ریفر کیا جاتا ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کو ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ، ملکی سالمیت و خود مختاری کیخلاف اقدام اور دہشتگردی میں ملوث ہونے پر کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

ذرائع وزارت قانون کے مطابق ایکشن ایکٹ کی شق 212 کے تحت وزارت داخلہ کو نوٹیفکیشن کے ذریعہ ڈیکلیریشن جاری کرنا ہوگا، ڈیکلیریشن جاری ہونے کے 15 روز کے اندر وزارت داخلہ جماعت کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ سپریم کورٹ بھیجے گی اور سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیکلیریشن کو برقرار رکھے جانے کے فیصلہ جماعت کالعدم قرار ہوجائے گی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں