لبنان میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کی وجوہات اور پس پردہ کیا محرکات ہیں؟ جان سکیں گے اس خبر میں

لبنان میں گزشتہ روز اہم سیاسی جماعت لبنانی فورسز کے 4 حکومتی اراکی کے استعفیٰ کے باوجود ہزاروں مظاہرین حکومت مخالف احتجاج کے چوتھے روز سڑکوں پر نکل آئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق استعفیٰ دینے والے 4 رہنماؤں میں سے ایک وزیر مزدور کامیلے ابوسلیمان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کی تبدیلی لانے اور مسائل پر بات کرنے کی قابلیت پر سے ہمارا ایمان اٹھ چکا ہے’۔

واضح رہے کہ قرضوں میں ڈوبے ملک لبنان کے شہری ٹیکسز میں اضافہ اور خراب ترین معاشی صورتحال کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق لبنان کا عوامی قرضہ 86 ارب ڈالر سے زائد ہے جو ان کی کل شرح نمو کا 150 فیصد ہے۔

حکومت کا مسائل کا حل نکالنے میں ناکامی کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے سامنے آئے۔

حال ہی میں ہونے والے ٹیکسز میں اضافے میں پیغام رساں ایپلی کیشن واٹس ایپ پر کی جانے والی کالز پر بھی 0.2 ڈالر تک ٹیکس عائد کرنے کی پیشکش کی گئی تھیں۔

اس طرح کی کال لبنان میں رابطے کا اہم ذریعہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے ان ٹیکسز کو ترک کرنے کے باوجود مظاہرے شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 4 روز سے مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں اور یہ صورتحال صرف بیروت میں نہیں بلکہ پورے ملک میں ہے، مظاہرین حکومت سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔

جہاں ہزاروں افراد سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں وہیں اب بھی کئی افراد سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تبدیلی لانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

مظاہرین کو خوش کرنے کے لیے لبنان کے وزیر خزانہ نے وزیر اعظم سعد حریری سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ انہوں نے حتمی بجٹ میں اضافی ٹیکسز یا فیس عائد نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ سب ہمارے ساتھ مل جائیں تاکہ ہم اس حکومت کا خاتمہ کرسکیں’۔

خیال رہے کہ جمعے کے روز سعد حریری نے حکومت میں اپنے شراکت داروں کو نئے ٹیکسز عائد کیے بغیر ملک کی معاشی بہتر کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں