ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایسی کیا سخت دھمکی دی کہ کرد فورسز کو ترکی اور شام سے ملحقہ سرحدی علاقہ خالی کرنا پڑا؟ اندر کی کہانی سامنے آ گئی

کرد فوج نے ترکی اور شام کی ملحقہ سرحدی علاقے راس العین سے فوجی انخلا شروع کر دیا کرد عہدیدران نے جنگ بندی معاہدے کے بعدعلاقہ خالی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ترکی کے جنگ بندی معاہدے کے بعد کردوں کی جانب سے پہلی پیش رفت سامنے آ گئی۔ کردوں کی جانب سے پہلی باراعلانیہ طور پر علاقہ خالی کرنے کا بیان سامنےآنے کے بعد علاقے سے فوجی انخلا شروع کیا ہے۔

کرد فورسز کے ترجمان نے بتایا کہ راس العین میں اب کرد جنگجو نہیں ہیں لیکن ترکی نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کرد ابھی بھی اس علاقے میں موجود ہیں اس سے قبل کرد عہدیدران نےاعلان کیا تھا کہ کرد فوجیں سیف زون کے لیے راس العین علاقہ خالی کر دیں گی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے جنگ بندی معاہدے کے بعد کہا تھاکہ اگرکردوں نے سیز فائر کے مقررہ کردہ 4 دنوں کے دوران بارڈر سے ملحق سیف زون خالی نہ کیا تو ان کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں