لبنان میں شدید احتجاج، حکومت اصلاحات پر مجبور

لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے معاشی اصلاحاتی پیکج پر رضامندی ظاہر کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لبنان میں معاشی بحران کے باعث ملک گیر شدید عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعد الحریری نے حکومتی اتحادی جماعت کے ساتھ معاشی اصلاحاتی پیکج پر رضا مندی ظاہر کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنان میں معاشی بحران کے باعث بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جارہا ہے جس میں مظاہرین نے حکمرانوں پر کرپشن اور دوستوں کو نوازنےکا الزام لگایا ہے۔

لبنان میں گزشتہ چار روز سے جاری ملک گیر احتجاج میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہے جب کہ اس احتجاج کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف دہائی کا ایک بڑا احتجاج قرار دیا گیا ہے۔

لبنان کی مخلوط حکومت کے وزیراعظم سعدالحریری نے اپنے اتحادیوں کو اصلاحات پررضامندی کے لیے 72 گھنٹے دیے تھے اور ساتھ ہی انہوں نے استعفے کا بھی اشارہ دیا جب کہ سعد الحریری نے اپنے حریفوں پر اصلاحات میں رکاوٹ بننے کا الزام لگایا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اصلاحاتی پیکج میں یہ فیصلہ کیا گیا ہےکہ موجودہ اور سابق صدور کی تنخواہوں میں 50 فیصد کمی کی جائے گے جب کہ وزرا، اراکان اسمبلی ، ریاستی اداروں اور ان کے عہدیداران کی مراعات کو بھی کم کیا جائے گا۔

معاشی اصلاحاتی پیکج مرکزی اور نجی بینکوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ آئندہ بجٹ میں خسارے پر مکمل قابو پانے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے تین ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کریں گے۔

اس کے علاوہ معاشی اصلاحاتی پیکج میں ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر اور بجلی کے شعبے میں مہنگے پرزہ جات کی مرمت کے حوالے سے نجکاری کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم سعد الحریری کی کابینہ کی جانب سے جلد ہی اس اصلاحاتی پیکج کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں