پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے بھارتی سیاستدان کو قتل کردیا گیا

نیو دہلی (ویب ڈیسک) : بھارتی ریاست اُترپردیش میں ایک بھارتی سیاستدان کو پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گُستاخی کرنے پر قتل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اُتر پردیش کی پولیس نے بھارت کی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے قتل کا کیس حل کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ اُترپردیش پولیس کے ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ نے اس کیس کے حوالے سے لکھنؤ میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کملیش تیواری کو انتہا پسندی کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔

کملیش تیواری نے 2015ء میں ایک تقریب کے دوران پیغمبر اسلام ﷺ کے لیے گُستاخانہ کلمات کہے تھے جس کی بنا پر انہیں قتل کیا گیا۔ اُترپردیش اور گُجرات پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا اور تحقیقات کا آغاز کیا۔
تینوں ملزمان کی شناخت مولانا محسن شیخ ، فیضان اور خورشید احمد پٹھان کے ناموں سے ہوئی۔ اس کے علاوہ دیگر دو ملزمان کو بھی گرفتار کیاگیا تھا لیکن کچھ دیر کے بعد ہی انہیں رہا کر دیا گیا البتہ ان کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ دوران تفتیش مزید تفصیلات سامنے آنے کا بھی امکان ہے۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ مولانا انوار الحق اور مفتی نعیم کاظمی نے اس قتل کی سازش کی۔ پولیس نے ان دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے بھی تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ اُترپردیش پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا کسی دہشتگرد جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وضاحت اس اطلاع کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ کملیش تیواری کو داعش کی جانب سے بھی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ او پی سنگھ نے مزید کہا کہ ابتدائی تفتیش میں زیر حراست ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ملا۔ یاد رہے کہ کملیش تیواری کو گذشتہ روز دوپہر کے وقت لکھنؤ میں خورشیدہ باغ میں موجود ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں