بلاول بھٹو نے کی حکومت کو لفظی گولہ باری، احتجاج اور آزادی مارچ کی ذمہ دار ٹھہرایا عمران خان کو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے پاس سڑکوں پر احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور جمہوریت کو بچانے کے لیے حکومت اور عمران خان کو جانا ہو گا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق صدر اور اپنے والد آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پر ایک مرتبہ پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے جیل حکام کو حکم دیا ہے کہ ڈاکٹرز نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو جو طبی سہولیات دینے کی ہدایات کی ہیں، آپ انہیں فوری فراہم کریں لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب تک اس عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ توہین عدالت کا قانون صرف جمہوری قوتوں کے لیے ہے اور غیر جمہوری قوتیں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرتی رہتی ہیں لیکن ہماری عدالتیں ان کے خلاف کچھ کرتی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منڈیلا قانون کے مطابق جو بھی قیدی ہو انہیں طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس وقت ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، سیاسی قیدی کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔

بلاول نے الزام عائد کیا کہ حکومت آصف علی زرداری کی صحت کو استعمال کر کے پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہی ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے بھی ان ظالموں کے خلاف سر نہیں جھکایا تھا اور ہم آج بھی سر نہیں جھکائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے پہلے بھی ساڑھے 11سال تک کوئی الزام ثابت ہوئے بغیر جیل میں گزارا تھا اور آج بھی گزار رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی بھی احتساب اور تحقیقات سے انکار نہیں کیا اور ہم اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جانے کے باوجود کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 18 اکتوبر کو ہونے والے شاندار جلسے میں عوام نے پیپلز پارٹی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور ہم اگلا جلسہ 23 اکتوبر کو تھرپارکر میں کریں گے اور پاکستان کے عوام یہ پیغام پہنچائیں گے کہ وہ اس نالائق اور نااہل حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے سلسلے میں جاری سیاسی کشیدگی کے بارے میں سوال پر بلاول نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ حکومت سیاسی ہے ہی نہیں، یہ کٹھ پتلی ہے اور انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ پاکستان جیسے ملک کو چلانا ایک کرکٹ میچ نہیں ہے، آپ پر ایک ذمہ داری ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا سیاسی حل نکالے لیکن نظر آ رہا ہے ان کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا ہے اور اگر آج بھی کوئی مارشل لا کی صورتحال پیدا ہوئی تو پاکستان پیپلز پارٹی وہی کردار ادا کرے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کو پیغام دیا کہ ہم سب کو ایسے سیاست کرنی چاہیے کہ جس کے ذریعے کسی تیسری قوت یا آمریت کو پھر سے ملک پر آنے کا موقع نہ ملے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت چاہے کتنی ہی ٹوٹی پھوٹی ہی کیوں نہ ہو لیکن کمزور ترین جمہوریت بھی آمریت سے کہیں بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمٰن سے اس نکتے پر اتفاق کرتے ہیں کہ اس حکومت اور عمران خان کو جانا ہو گا تاکہ ہم جمہوریت کو بچا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے خود پارلیمان پر تالا لگا دیا ہے، وہ آئینی نظام کو چلنے نہیں دے رہے ہیں، کسی بھی بل کو منظور کرنے نہیں دے رہے، اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جا رہے، میں نے خود انسانی حقوق کے سلسلے میں پانچ بل بھیجے انہیں اب تک پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا، لہٰذا جب حکومت خود پارلیمان کا دروازہ بند کر دے گی اور جب ضمنی انتخابات سے بھی ہمارے لیے راستہ بند کر دے گی، عدالت پر دباؤ ڈالا جائے گا اور نیب کو سیاسی ہتھیار بنایا جائے گا اور جب حکومت اپوزیشن کے لیے کوئی جمہوری راستہ نہیں چھوڑے گی تو پھر ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہے، ہمارا مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے ساتھ اچھا تعلق رہا ہے اور ہم سب نے مل کر ملک کے موجود مسائل کا حل نکالنا ہے۔

بلاول نے واضح کیا کہ ہم مولانا فضل الرحمٰن کو سپورٹ کر رہے ہیں اور اگر ان کے خلاف کوئی غیر جمہوری رویہ یا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، ان کے جمہوری حق احتجاج کی اجازت نہیں دی جاتی تو پاکستان پیپلز پارٹی روزانہ کی بنیاد پر اپنی پوزیشن پر غور کرتی رہے گی۔

انہوں نے لاڑکانہ میں پی ایس 11 میں اپنی پارٹی کی شکست کے بارے میں کہا کہ وہ الیکشن نہیں سلیکشن تھا، ہم ہر فورم پر ان کو بے نقاب کرتے رہیں گے اور کل ہی فافن نے مذکورہ انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ الیکشن میں بے قاعدگیاں تھیں اور 21 پولنگ اسٹیشنز پر جو ووٹنگ ہوئی اس طرح سے ووٹنگ ممکن ہی نہیں تھی یعنی جس تیزی سے ووٹ ڈل رہے تھے وہ ممکن ہی نہیں تھا اور اس کا مطلب دھاندلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور سندھ کے عوام ہمارے ساتھ ہیں، کسی کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کے ساتھ نہیں ہیں اور جب یہ بیگز کھلیں گے تو آپ سب کو نظر آئے گا کہ دھاندلی ہوئی ہے، ہم نے پہلے بھی ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور دوبارہ انتخابات ہوئے اور اب بھی یہی ہو گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں