’پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی مہمات کی ضرورت ہے‘

پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق جاری سمپوزیم میں شریک مقرر امریکی ماہر بہبود آبادی نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی مہمات کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے کے لیے سپوزیم منعقد کیا جارہا ہے جس میں وزیرِ اعظم عمران خان اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار موجود ہیں۔

سمپوزیم میں سپریم کورٹ کے جسٹسز، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء دیگر ممالک کے سفارتکار اور علماء بھی شریک ہوئے۔

سپریم کورٹ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق ایک روزہ سپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری صحٹ زاہد سعید کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادہی پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کے لیے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی آبادی 20 کروڑ روپے سے تجاوز کرچکی ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ 30 سال کے دوران اس میں دگنا اضافہ ہوجائے گا۔

زاہد سعید نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سب سے پہلا اقدام ٹاسک فورس کی تشکیل ہے۔

اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے امریکی ماہر بہبود آبادی ڈاکٹر جان بونگاٹز نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق مہمات کی ضرورت ہے۔

جان بونگاٹز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آبادی سے متعلق سمپوزیم ایک اچھا اقدام ہے۔

سمپوزیم کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں پاکستان کی افزائش آبادی اور اس کے مسائل کو دکھایا گیا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ 70 کی دہائی میں پاکستان کے پاس بہبود آبادی اور افزائش آبادی سے متعلق دنیا کا سب سے بہترین پروگرام تھا، اور اس سیکٹر میں پاکستان میں فقدان نظر آتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں