شمسی طوفان کیوں اور کیسے پیدا ہوتے ہیں؟

سورج تواتر سے گیسسں اور پلازما خلاء میں پھینکتا ہے۔ جانیے کہ اس طرح پیدا ہونے والے شمسی طوفان زمینی آبادی کو کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کیا ان کی پیش گوئی سے متعلق کوئی نظام بنایا جا سکتا ہے؟

جہنم کی طرح طاقتور اور کھولتا ہوا سورج لیکن ساتھ ہی یہ دلچسپ اور پراسرار بھی ہے۔ اگر سورج پر تحقیق کی بات کی جائے تو جرمن شہر گوٹینگن کا ماکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے نظام شمسی بہت آگے ہے۔ یہاں کے سائنسدان جاننا چاہتے ہیں کہ شمسی طوفان کیسے بنتے ہیں اور ہر دس سے بارہ برس بعد ان کی تعداد زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟

اس حوالے سے ماکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے ماہر فلکیات پروفیسر سامی سولنکی کہتے ہیں، ’’ہمارے خیال سے ایسا سورج کے اندر موجود برقی توانائی (ڈائنامو) کے ذریعے ہوتا ہے لیکن ایسا کس طریقہ ء کار کے تحت ہوتا ہے، یہ ہم نہیں جانتے۔‘‘ زمین سے تقریبا ایک سو پچاس ملین کلومیٹر دور سورج ناقابل یقین حد تک گرم ہے۔ جب ہائیڈروجن ہیلیم ایٹموں میں ضم ہوتی ہے توسورج کی اندرونی سطح کا درجہ حرارت پندرہ ملین گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ چار عشاریہ سات ارب برسوں سے یہ ایٹمی فیوژن ہی شعاعوں، گرمی اور روشنی کا منبع ہے۔

سورج ہمیں ایک چکمتی گیند کی طرح لگتا ہے لیکن یہ ظاہری شکل دھوکا ہے۔ وہاں گھومنے والی گیسیں ایک بے ترتیب مقناطیسی میدان پیدا کرتی ہیں۔ مقناطیسی لائنوں سے ایسے بڑے دائرے بنتے ہیں، جو بالائی سطح سے بھی اسی ہزار کلومیٹر اونچائی تک جاتے ہیں۔ پلازما اور گرم گیسیں انہی کے ساتھ چپکی ہوتی ہیں۔

پروفیسر سامی سولنکی کہتے ہیں، ’’مقناطیسی میدان ہر وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے اور لہریں گچھم گچھا ہو جاتی ہیں۔ مقناطیسی لائنیں خود کو کاٹ سکتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ غیر مستحکم ہو کر ربڑ بینڈ کی طرح ٹوٹتے ہوئے پھیل جاتی ہیں۔‘‘

اس طرح شمسی توانائی کا اکثر اخراج ہوتا رہتا ہے۔ سورج کی کئی ملین ٹن گیسیں اور پلازما خلاء میں پھیل جاتے ہیں۔ بارہ گھنٹوں بعد برقی ذرات کی پہلی لہر ہمارے سیارے سے ٹکراتی ہے۔ زمینی مقناطیسی میدان ہماری حفاظت کرتا ہے لیکن قطبین میں یہ شیلڈ کمزور ہے اور وہاں فضا میں ہی آکسیجن اور نائٹروجن مالیکیولز چمکنا شروع کر دیتے ہیں۔

ماہرین موسمیات کے مطابق یہ قطبی روشنیاں دلکش ہیں اور نقصان دہ بھی نہیں۔ لیکن شمسی طوفان کئی طرح کے خطرات ساتھ لاتا ہے۔ یہ مدار میں گھومنے والے سیٹلائٹس خراب اور خلابازوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ایک طاقتور شمسی طوفان زمین پر بجلی کی فراہمی کے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔

پروفیسر سامی سولنکی کا کہنا تھا، ’’ہماری زندگی کا انحصار کئی طرح سے الیکٹرانک مصنوعات اور بجلی پر ہے۔ ایسے طوفان کمپیوٹر بند اور ان کی میموری ڈیلیٹ کر سکتے ہیں۔ فرض کریں آپ ہوائی جہاز میں ہیں اور بورڈ کمپیوٹر بند ہو جاتے ہیں۔ میں تو نہیں چاہتا کہ کبھی ایسا یو تو میں بھی وہاں موجود ہوں۔‘‘

یورپی خلائی ایجنسی شمسی طوفانوں کا قبل از وقت اندازہ لگانے کے لیے سن دو ہزار بیس میں ایک مصنوعی سیارہ بھیجنا چاہتی ہے۔ یہ شمسی مصنوعی سیارہ آٹھ سینٹی میٹر موٹی ڈھال سے محفوظ رہے گا اور سورج کی بالائی سطح پر مقناطیسی میدان کی پیمائش کرے گا۔ اس منصوبے کی مزید وضاحیت کرتے ہوئے سولنکی بتاتے ہیں، ’’ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم موسم کی طرح یہ پیش گوئی بھی کر سکیں گے کہ شمسی طوفان کب آئے گا۔‘‘ ماہرین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں موسم کی رپورٹ میں اسے بھی شامل کر لیا جائے۔

ڈی ڈبلیو

شاید آپ یہ بھی پسند کریں