میکسیکو میں 6 بچوں اور 3 خواتین سمیت 9 امریکیوں کو کیوں ہلاک کیا گیا؟ واقع کے بعد امریکی صدر کا بڑا بیان، تفصیل اس خبر میں

شمالی امریکی ملک میکسیکو میں مبینہ طور پر ڈرگ مافیا کے حملے میں 9 امریکی شہری ہلاک ہوگئے جن میں 6 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ میکسیکو کی ریاست سونارا میں پیش آیا جہاں امریکا سے تعلق رکھنے والا خاندان گاڑیوں کے قافلے میں سفر کررہا تھا۔

حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ انہیں ڈرگ مافیا نے غلطی سے کسی اور کے شبے میں نشانہ بنایا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق مرنے والے 2 بچوں کی عمریں ایک سال سے بھی کم تھیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ خاندان امریکی شہریت رکھتا ہے تاہم گذشتہ کئی دہائیوں سے میکسیکو میں مقیم ہے۔

واضح رہے کہ میکسیکو کی ریاست سونارا گذشتہ کئی عرصے سے منشیات فروش گروہوں اور ڈرگ مافیا کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

اپنی ایک ٹویٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک بہت ہی پیارا خاندان ایک دوسرے پر فائرنگ کرنے والے دو شیطانی منشیات فروش گروہ کے درمیان پھنس گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واقعے میں بچوں ٓاور خواتین سمیت متعدد امریکی شہری مارے گئے ہیں جب کہ کچھ لاپتہ بھی ہیں، میکسیکو کو اگر ان مافیاز کے خاتمے لیے مدد درکار ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے میکسیکو حکام کو ڈرگ مافیا پر قابو پانے کے لیے اپنی خدامت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم میکسیکو کے صدر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک آزادانہ طور پر اس واقعے کی تحقیقات کرے گا اور حملہ کرنے والے ملزمان کو سزا دلوائے گا۔

واضح رہے کہ میکسیکو اور امریکا کے سرحدی علاقے میں منشیات فروش گروہ سرگرم ہیں جن کی ریاستی اداروں کے علاوہ آپس میں بھی طاقت کے حصول کے لیے لڑائی جاری رہتی ہے، یہ گروہ میکسیکو سے منشیات کی بھاری مقدار امریکا اسمگل کرنے میں ملوث ہیں۔

ان ہی میں سے امریکا میں گرفتار گوزمین عرف الچاپو کاگروہ سب سے زیادہ مشہور ہے ،62 سالہ الچاپو کو نیویارک کی وفاقی عدالت نے منشیات اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سمیت 10 الزامات پر عمر قید کی سزا کے ساتھ 30 سال اضافی قید کی سزا سنائی ہے۔

 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں