سابق وزیر داخلہ چودھری نثارنے حُکومت کے خلاف جاری دھرنے کی بھرپور مخالفت کر دی

ٹیکسلا (ویب ڈیسک) سابق وزیرِ داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ ناپسندیدہ حکومت کو جتھوں کے ذریعے گرانا مناسب عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دھرنوں کے ذریعے حکومت تبدیل کرنا غلط روایت ڈالے گا، اگر دھرنا ایک دفعہ بیٹھ جائے تو اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔ سابق وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ آج سیاست میں سچ سے زیادہ منافقت بکتی ہے، دھرنوں کی غلط روایت عمران خان نے ڈالی، کوئی جھتہ آئے اور کہے حکومت تبدیل کرو تو کیا ہو جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی جماعتوں کو تو جتھے اکٹھے کرنے میں کوئی مشکل نہیں، اس وقت کہا تھا کہ دھرنوں کے ذریعے حکومت تبدیل کرنا غلط روایت ڈالے گا، میں نے کہا تھا ایک جتھہ جائے گا تو دوسرا آ جائے گا۔ چودھری نثار علی کا کہنا تھا کہ ناکارہ اور ناپسندیدہ حکومت کو بھی جتھوں کے زریعے گرانا مناسب عمل نہیں، اگر حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی ہو تو ان میں یہ اہلیت ہے کہ ان جتھوں کو روک سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 2014ء میں ہونے والے پی ٹی آئی کے دھرنوں کو غلط کہنے والا آج جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے دھرنے کو ٹھیک کہہ رہا ہے تو پھر مارشل لاء کہاں جائے؟ جب لیڈر شپ بار بار اپنا موقف تبدیل کرتی پھرے تو کارکنان بددل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھرنا ایک دفعہ بیٹھ جائے تو اسکا دوبارہ اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارا ملک بہت سے سکیورٹی ایشوز میں گھرا ہوا ہے اور بھارتی سکھوں کو بغیر پاسپورٹ کے پاکستان میں داخلے کی اجازت دینا کسی صورت بھی درست فیصلہ نہیں ہے۔

دوسری جانب جمیعتِ علماء اسلام ف نے وزیراعظم عمران خان کے استعفے تک آزادی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج جمیعت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس کے بعد جمیعتِ علماء اسلام ف کے رہنما مولاناعبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا ہے وزیراعظم کے استعفی تک آزادی مارچ اور تحریک جاری رہے گی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں