خوشگوار زندگی کی خاطر ’’خوشگوار موت‘‘ کی ریہرسل، حیران کن نکشاف نے سب کو چونکا دیا

شاید ہی کوئی شخص ہو جو اچھی اور خوش و خرم زندگی گزارنا نہ چاہتا ہو لیکن جنوبی کوریا میں خوشگوار زندگی کے لیے ایک نیا رجحان مقبول ہورہا ہے جس کے تحت جیتے جاگتے لوگ اپنی زندگی کے آخری لمحات سے لے کر مرنے تک کی ریہرسل کرتے ہیں، جسے ’’خوشگوار موت‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ریہرسل میں شریک ہونے والا ہر شخص پہلے اپنی زندگی کی آخری تصویر کھنچواتا ہے، اپنے ہاتھ سے اپنی وصیت لکھتا ہے اور پھر تھوڑی دیر کے لیے تابوت میں لیٹ جاتا ہے اور خود کو مُردہ محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جنوبی کوریا میں ’’موت کی ریہرسل‘‘ کے مختلف مراکز 2012ء سے کام کررہے ہیں، جہاں ہر سال لاکھوں لوگ قربِ موت اور آخری رسومات کی مشق کرتے ہیں۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایسے بیشتر مراکز غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے تحت کام کررہے ہیں جہاں موت کی ریہرسل کے لیے آنے والوں سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں خود کشی کی شرح بہت زیادہ ہے جہاں ہر سال تقریباً 11000 افراد خودکشی کرلیتے ہیں۔ آبادی کے تناسب سے یہ شرح 20.2 فی 100,000 بنتی ہے جو عالمی ادارہ صحت کے بیان کردہ عالمی اوسط یعنی 10.53 فی 100,000 سے تقریباً دوگنی ہے جو بلاشبہ ایک تشویش ناک امر ہے۔

موت کی ریہرسل کروانے والے مراکز کا مقصد، جنوبی کوریا میں خودکشی کی بلند شرح کو کم کرنا ہے۔

یہ مراکز چلانے والے افراد اور نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں موت کے تجربے سے گزرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کتنی قیمتی ہے۔ لہذا، اس ریہرسل کے بعد لوگوں کی اکثریت کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ انہیں اپنی زندگی خوشگوار محسوس ہونے لگتی ہے اور ان کے ذہنوں میں مرنے یا خودکشی کرنے کے خیالات بھی بہت کم آتے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں