دنیا کی پہلی ورچوئل فتویٰ سروس متعارف، اب فتوے آن لائن جاری کیے جائیں گے

ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں تعلیم و صحت کے شعبے میں ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ یعنی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب وہیں اس ٹیکنالوجی کا استعمال مذہبی معاملات میں بھی کیا جانے لگا ہے۔ اور اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی نے دنیا کی پہلی ورچوئل فتویٰ سروس متعارف کرادی۔
دبئی کے ’اسمارٹ دبئی‘ منصوبے کے تحت محکمہ اسلامک افیئرز اینڈ چیریٹیبل ایکٹویٹیز نے ورچوئل فتویٰ کی سروس شروع کردی۔دنیا کی پہلی ورچوئل فتویٰ سروس کو گزشتہ ہفتے متعارف کرایا گیا اور ابتدائی طور پر اس سروس کوآئی اے سی اے ڈی کی آفیشل ویب سائٹ پر متعارف کرایا گیا ہے۔اس سروس سے دنیا کے تمام مسلمان مستفید ہو سکیں گے، اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے دبئی میں رہنا یا وہاں کی شہرت کا ہونا لازمی نہیں ہے۔
ورچوئل فتویٰ سروس کے ابتدائی مرحلے میں اس سہولت کو صرف آئی اے سی اے ڈی کی ویب سائٹ پر متعارف کرایا گیا ہے، تاہم جلد ہی اسے واٹس ایپ پر بھی متعارف کرایا جائے گا۔ساتھ ہی مستقبل میں اس سہولت کی الگ ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی جائے گی۔ورچوئل فتویٰ دراصل مسلمانوں کے عام مسائل پر تقریباً 205 سوالات کے جوابات دے کر انہیں ان کے مسائل پر فتویٰ فراہم کرے گی۔
اس سروس کو متعارف کرانے کی منعقد ہونے والی تقریب میں بتایا گیا کہ ورچوئل فتویٰ کا نظام 85 فیصد سوالوں کے جوابات بالکل درست دیتا ہے، تاہم اگر سوالوں کو مختلف الفاظ یا جملوں میں آسان بناکر پیش کیا جائے تو نتائج مزید بہتر ہوسکتے ہیں۔اسلامی ممالک میں ایسا فتویٰ پہلی بار متعارف کرایا گیا ہے جس سے متعلق سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنےآ رہا ہے۔ کچھ لوگ تحسین جب کہ کچھ لوگ تنقید کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں