ڈاکٹر طاہر القادری کے دونوں صاحبزادوں حسن محی الدین اور حسین محی الدین کے خلاف انکوائری شروع

پاکستان عوامی تحریک کے قائد علامہ ڈاکٹرطاہر القادری کے دوصاحبزادوں کیخلاف منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا ہے، نیب نے حسن محی الدین اور حسین محی الدین کیخلاف انکوائری شروع کردی ہے، دونوں نے نیب کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دونوں صاحبزادے نیب کے ریڈار پر آگئے۔

نیب نے دونوں صاحبزادوں کے خلاف 4.028 1 ملین منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ طاہر القادری کے صاحبزادوں نے نیب کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے نیب کو شکایت کی تھی۔ جس پر سٹیٹ بینک کے فنانشل یونٹ نے 30 جون 2016ء کو نیب کوطاہر القادری کے بیٹوں کی مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ پر نیب نے طاہر القادری کے بیٹوں کے خلاف انکوائری شروع کی تھی۔ ذرائع نیب لاہور کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ 9 جون 2015ء سے حسن محی الدین اور حسین محی الدین کو4.028 1ملین کی رقم سید محمود شاہ اوراکبرعلی کے جوائنٹ بینک اکاؤنٹ سے جمع کروائی گئی۔ یہ ساری رقم اسی روز طاہر القادری کے صاحبزادوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا جاتی رہیں۔

منی لانڈرنگ کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری رہا۔ نیب کا کہنا ہے کہ طاہر القادری کے دونوں صاحبزادوں حسن محی الدین اور حسین محی الدین کو طلبی کے 12نوٹسز بھجوائے گئے، جس میں ان سے رقم ٹرانزیکشن سمیت تما م ریکارڈ طلب کیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ واضح رہے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا میں مقیم اور وہاں کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ادارہ منہاج القرآن کے چیئرمین بھی ہیں۔ پچھلے دنوں علامہ طاہر القادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں