مذاکرات کے دروازے بند ، مولانا فضل الرحمٰن نے موقع گنوا دیا ، اب کیا ہونیوالا ہے ؟ حامد میر نے بڑی خبر دے دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے ایک طرف وقتی طور پر اپنے دروازے حکومت کے لئے بند کردیئے ہیں اور دوسری طرف جے یو آئی کے اندر بھی اختلاف پایا جا رہا ہے ۔ جیونیوز کے پروگرام ”نیاپاکستان “میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے

کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ایک طرف وقتی طور پر اپنے دروازے حکومت کے لئے بند کردیئے ہیں جبکہ دوسری طرف جے یو آئی کے اندر بھی اختلاف پایا جا رہا ہے ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان پلان بی، سی اور ڈی کا ذکرتو کرتے ہیں لیکن جس دن جلسہ ہوا تھا تو مجھے پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کل جا رہے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمان نہیں گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ابھی پندرہ 20دن یہاں رہیں گے اور جیسے جیسے ان کا قیام بڑھتا جائے گا ، مولانا فضل الرحمان کے لہجے میں تلخی آتی جائے گی۔

یاد رہے کہ تجزیہ کارحامد میر کا کہنا ہے کہ تین روز قبل مولانا فضل الرحمٰن کو پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک پیغام ملا تھا کہ اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو ہمارے کارکن ایک بڑی تعداد میں دھرنے میں شمولیت کے لئے آ جاتے جس پر جے یو آئی میں اختلاف رائے پایا گیا کہ اب ہم کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ جیونیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میرنے کہا کہ تین روز قبل مولانا فضل الرحمان کو پیپلز پارٹی کی طرف سے ایک پیغام ملا تھا کہ اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو ہمارے کارکن ایک بڑی تعداد میں دھرنے میں شمولیت کیلئے آجاتے جب پر جے یو آئی میں اختلاف رائے تھا کہ اب ہم کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانافضل الرحمان کے پاس جتنے لوگ ہیں ان کو سنبھالنا مشکل ہورہاہے اور مولانا فضل الرحمان نے جن ایشوز کو اٹھا دیا ہے ، ا ن ایشو ز پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیار نہیں ہوں گی ۔ حامد میر کا کہناتھا کہ مولانافضل الرحمان پلان بی، سی اور ڈی کا ذکرتو کرتے ہیں لیکن جس دن جلسہ ہوا تھا تو مجھے پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کل جارہے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمان نہیں گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ابھی پندرہ 20دن یہاں رہیں گے اور جیسے جیسے ان کا قیام بڑھتا جائے گا ، مولانا فضل الرحمان کے لہجے میں تلخی آتی جائیگی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں