بابری مسجد مسلمانوں سے لے لی۔۔۔ اب تاج محل کی باری تاج محل کی جگہ اب کیا تعمیر ہوگا؟ انتہاء پسند ہندوؤں نے بڑا اعلان کردیا

انتہا پسند ہندو بابری مسجد کے بعد تاج محل کے پیچھے پڑ گئے۔تفصیلات کے مطابق بابری مسجد کے حوالے سے اپنے حق میں فیصلے دلوانے کے بعد ان ہندو انتہا پسند تاض محل گرا کر وہاں بھی مندر تعمیر کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔بھارتی کے کئی سیاستدانوں کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں ہندو انتہا پسند تاج محل کو گرا کر وہاں مندر تعمیر کر کے ہی دم لیں گے۔

اسی حوالے سے جب حکومتی جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی ونے کٹیار سے سوال ایک ہندو نے سوال کیا کہ ہمیں امید ہے جیسے آپ نے رام مندر کے لیے پہل کی ہے۔تو جو آگرہ میں تاج محل ہے وہاں پر کب مندر بننے والا ہے؟۔جس کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ 2017ء کو مدعا ہے۔
مین بتانا چاہتا ہوں کہ 1977ء میں،میں نئے تاض محل کی بیسمنٹ میں جانے کی درخواست کی۔

اس پر تالا لگا ہوا تھا تو میں نے سرکار سے تالا کھلوانے کے لیے کہا تو منسٹر تھوڑا گھبرا گیا اور کہا کہ آپکو اس میں کیا دلچسپی ہے۔جس پر میں نے جواب دیا کہ میں تو پارلیمان کا ممبر ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہاں پر کیا ہے۔تاہم انہوں نے انکار کر دیا تھا۔اس کے بعد ہماری حکومت چلی گئی تھی۔

بی جے پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اب مجھے پہلی بار موقع ملا ہے اور میں اگلے سال اس کا فیصلہ کروانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب مندر کی نہیں اب قبرستان کی باری آ گئی ہے۔ بی جے پی رہنما کا مزید کہنا ہے کہ تاج محل دراصل ایک مندر تھا جہاں پر تاج محل بنایا گیا،انہوں نے مزید کہا کہ چاہے کاشی وِشراتھ کے مندر کا سوال ہو، چاہے متھرا کے کشی جن مندر کا سوال ہو، چاہے ایودھیا کے رام مندر کا سوال ہو، یہ سب جو ہیں، انہیں مغلیہ بادشاہوں نے ہی توڑا ہے۔ ان سارے لوگوں نے توڑنے کا ہی کام کیا ہے۔ یہاں تک کہ جو تاج محل ہے، جس کو سنگیت سوم نے بولا ہے۔ وہاں پر دیوی دیوتاؤں کی ساری نشانیاں ہیں۔ یہ جہاں موقع پاتے ہیں، وہیں اس طرح کا کام کرتے ہیں۔

بی جے پی رہنما نے کہا کہ تاج محل ہمارا مندر تھا جلد ہی اسے مندر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں