وٹس ایپ کی چھٹی۔۔حکومت پاکستان نے اہم فیصلہ کرلیا

نیب نے سابق وزیرعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق نیب نے حکومت سے کہا ہے کہ حکومت پلی بارگین کا آپشن استعمال کرے کیونکہ نیب ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے کا حصے دار نہیں بنے گا۔ کے مطابق نیب افسران نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔

ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے پر نیب افسران میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر نیب نے نام نکالنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈال دی ہے۔ اس ضمن میں نیب نے وزرات داخلہ کو جوابی خط بھی لکھ دیا ہے۔ نیب کی جانب سے بھیجے جانے والے جوابی خط میں نیب کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالےسے خود فیصلہ کرے۔

حکومت کے پاس صوابدیدی اختیار ہے اور اُسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے حکومت نواز شریف کا نام ای سی ایل میں سے نکالنے کا فیصلہ کرے کیونکہ وفاقی حکومت بعض کیسز میں ای سی ایل سے نام خود نکال چکی ہے۔ وفاقی حکومت ہی مجازاتھارٹی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کا معاملہ دن بدن گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ نواز شریف نے پروگرام کے مطابق آج قطر ائیرویز کی پرواز سکس ٹو نائن سے براستہ دوحہ لندن روانہ ہونا تھا، تاہم ان کی ٹکٹیں کینسل کروا کر روانگی منسوخ کر دی گئی تھی۔ نواز شریف کا نام تاحال ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک روانہ نہیں ہو سکے۔ دوسری جانب نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نواز شریف کے پلیٹ لیٹس سیلز میں کمی بدستور جاری ہے۔ انہیں مرکزی لندن کے ایک نجی اسپتال میں نواز شریف داخل کروانے کے انتظامات مکمل ہیں، جہاں ان کی طبی ٹیم کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ لندن میں موجود پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو اُسی اسپتال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں لیکن جب تک نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جاتا وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں