پوپ فرانسیس پہلی مرتبہ ابوظہبی کا دورہ کریں گے‬‎

ترجمان ویٹیکن نے کہا ہے کہ پوپ فرانسیس آئندہ سال فروری میں اس وقت جزیرہ نما عرب جائیں گے جب وہ متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کا دورہ کریں گے۔

پوپ فرانسز کا 3 سے 5 فروری تک کا یہ دورہ بنیادی طور پر ایک مسلم ملک کا دورہ ہے، جس کا موضوع بین المذاہب ہم آہنگی کے گرد گھومتا ہے۔

ویٹیکن کا کہنا تھا کہ پوپ فرانسیس نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان اور وہاں کی چھوٹی کیتھولک کمیونٹی کی دعوت قبول کی اور وہ وہاں بین المذاہب اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اس حوالے سے ایک بیان میں جنوبی عرب کے رومن کیتھولک اریبین ویکاریٹ کے سربراہ بشپ پال ہنڈر نے ایک بیان میں کہا کہ ہم یو اے ای حکومت کے شکرگزار ہیں جنہوں نے پوپ کے لیے ’ابوظہبی میں عوامی مقام پر جشن بنانے کی آزادی دی‘۔

خیال رہے کہ خلیج میں اپنے رسم و رواج کرنے کے لیے اسلام کے مقابلے میں عیسائیت یا کسی اور مذہب کو ہمیشہ اس طرح آزادی نہیں دی جاتی۔

متحدہ عرب امارات اور کویت میں خصوصی لائسنسز کے ساتھ عیسائی گرجہ گھروں اور دوسرے مقامات پر عبادت کرسکتے ہیں لیکن سعودی عرب میں دیگر مذاہب کی پریکٹس منع ہے۔

پال ہنڈر کے مطابق پوپ فرانسز کی آمد پر یہ عوامی تقریب 5 فروری کو منعقد کی جائے گی۔

خیال رہے کہ پوپ فرانسیس نے ترکی، اردن، مصر، بنگلہ دیش، آذربائیجان اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا ہے اور اپنے ان دوروں میں بین المذاہب ہم آہنگی کا مطالبہ کیا اور خدا کے نام پر تشدد پھیلانے کی مذمت کی۔

ویٹیکن ترجمان گریگ برکے کا کہنا تھا کہ اس دورے کا موضوع ’مجھے اپنے امن کا ذریعہ بنائیں‘ ہے اور یہی پوپ فرانسیس کے متحدہ عرب امارات جانے کا مقصد ہے جبکہ امن کے لیے نیک لوگ کس طرح کام کر سکتے ہیں یہ اس دورے کا بڑا موضوع ہوگا‘۔

علاوہ ازیں ولی عہد محمد بن زید النہیان نے ایک ٹوئٹ کی کہ پوپ ’امن، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ کا نشان ہیں اور ہم اس دورے کے منتظر ہیں، جس سے ہم لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پر بات چیت کرسکیں گے‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں