شریفوں کے ٹبر نے کتنی بے دردی سے ملک کو لوٹا : اتفاق فونڈری کا لوہا بیچنے کے لیے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو کیا دھمکی دی جاتی تھی ؟ نامور کالم نگار کے دھماکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد یہ دیکھا کہ پا کستان میں گنے کی کاشت کے لیے ”زوننگ‘‘ کا اطلاق تھا‘ یعنی کچھ علاقے گنے کی کاشت کیلئے مخصوص تھے اور ان علاقوں کے علاوہ گنے کی کاشت ممنوع تھی اور ان علاقوں میں شوگر مل بھی نہیں لگائی جا سکتی تھی‘

نامور کالم نگار خالد مسعود خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر یوں ہوا کہ قانون سازی کرنے والے شوگر بزنس میں آ گئے یا شوگر کا بزنس کرنے والے حکومت میں آ گئے‘ بات ایک ہی ہے ‘لیکن اس کا نتیجہ بہت ہی برا نکلا۔ زوننگ ختم ہو گئی۔ کپاس کے علاقے میں گنا کاشت ہونے لگ گیا۔ اس کی ابتدا تو میاں نواز شریف اینڈ کمپنی نے کی اور سارے ”ٹبر‘‘ نے شوگر ملیں لگا لیں‘ پھر یوں کیا کہ برطانیہ کے غیر تحریری آئین کی طرح یہ بات طے کر دی کہ صرف اسے شوگر مل لگانے کی اجازت ملے گی‘ جو مشینری اتفاق فاؤنڈری سے بنوائے گا‘ لہٰذا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہیں مل‘ اتفاق گروپ کی تھی اور کہیں مل کی مشینری۔ دونوں طرح سے پیسہ سمیٹا گیا۔ پہلے یہ کام صرف پرانے کاروباری لوگ کرتے تھے۔ دیوان گروپ‘ منوں گروپ‘ کریسنٹ گروپ‘ باوانی خاندان‘ فیکٹو گروپ وغیرہ‘ پھر آ گئے میاں نواز شریف گروپ‘ چوہدری شجاعت گروپ اور زرداری المعروف اومنی گروپ وغیرہ۔ پنجاب میں تو سیاستدانوں نے شوگر ملیں خود سے لگائیں‘ زرداری صاحب نے شارٹ کٹ نکالا اور لگی لگائی شوگر ملیں اونے پونے ہتھیا لیں۔ اسی دوران جہانگیر ترین بھی اس کاروبار میں آ گئے اور انہوں نے اسے بڑے کارپوریٹ انداز میں چلایا

اور ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے گنے کی کاشت میں بھی خود سے آ گئے۔ ٹھیکے پر لی گئی ہزاروں ایکڑ اراضی پر اپنے لیے گنا کاشت کیا اور اس کاروبار میں نفع حاصل کرنے کے حوالے سے شاید سب سے آگے چلے گئے کہ گنا بھی اپنا تھا اور مل بھی۔ خط استوا پر واقع ممالک گنے کی فصل کیلئے موزوں ترین تھے۔ تقریباً ہر روز دوپہر کے بعد ہونے والی بارش گنے کی جڑ کو کبھی خشک نہیں ہونے دیتی اور اس بنیادی وجہ کے باعث گنے کی فصل کی پیداوار بھی بہت ہوتی ہے ا ور اس میں مٹھاس کی مقدار بھی۔ ہمارے ہاں بھی دریائے سندھ کے کنارے کاشت ہونے والی گنے کی فصل ‘ملک کے دیگر علاقوں میں کاشت ہونے والی گنے کی فصل کی نسبت بہت اچھی ہوتی ہے اور چینی کا حصول ‘یعنی ”شوگر ریکوری‘‘ بھی بہت بہتر ہے‘ بھرپور سیزن میں 12 فیصد سے بھی زائد‘ اسی طرح سندھ کے ضلع بدین اور ٹھٹھہ میں بھی گنے کی فصل اور ریکوری بہت بہتر ہے‘ لیکن وسطی اور بالائی پنجاب میں خراب ترین نتائج۔ صورتحال یہ ہے کہ پانی کی شدید کمی کے باعث گنے کی فصل ویسے بھی ہمارے لیے موزوں نہیں رہی۔ بارش سے کمی پوری ہو سکتی تھی‘

لیکن ادھر بارش کی اوسط بھی خط استوا کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کپاس کی کاشت کے حوالے سے چند سال پہلے تک پاکستان کا سب سے بڑا ضلع رحیم یار خان سارے کا سارا گنے کی فصل پر منتقل ہو چکا ہے۔ اس میں زیادہ حصہ جہانگیر ترین کا ہے کہ ادھر زیادہ تر شو گر ملز انہی کی ہیں‘ تاہم اس خرابے میں بھی جہانگیر ترین ان مل مالکوں میں سے ‘جنہوں نے کاشتکار کو پیسے بھی پورے دیے اور بروقت بھی‘ باقی صورتحال یہ ہے کہ ملز مالکان گنے کے کاشتکار کے پچھلے سال کے 16 ارب روپے دبا رکھے ہیں۔ گنے کا کاشتکار رو رہا ہے کہ اس کا استحصال ہو رہا ہے اور مل مالک رو رہا ہے کہ گنے کی امدادی قیمت اور مارکیٹ میں چینی کی قیمت کے حوالے سے ان کا خرچہ بھی پورا نہیں ہو رہا اور وہ نقصان میں ہیں۔ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں اور اس کی وجہ وہی ایک ہے کہ دونوں غلط کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گنا یہاں میرا مطلب ہے پاکستان میں کاشت ہی نہیں ہونا چاہئے اور انہی وجوہات کی بنیاد پر اتنی ملیں بھی ہونی چاہئیں تھیں۔ اس سارے کام کی ابتدا ہی درست نہیں تھی۔اس وقت ملک میں 85 کے لگ بھگ شوگر ملز ہیں۔ پنجاب میں تو گنا خواہ اس کی ادائیگی اگلے سال ہی کیوں نہ ہو180 روپے فی من خرید ہوتا رہا ہے‘ لیکن سندھ میں تو 130 روپے فی من تک کی ادھار والی ادائیگی کے لارے پر کاشتکار کو لوٹا جا رہا ہے۔ اس وقت گنے کی فی من کٹائی کا خرچہ 20 سے 22 روپے ‘ لوڈنگ وغیرہ ڈال کر یہ خرچہ 35روپے فی من اور مل تک پہنچانے کا خرچہ 40 روپے من (یہ کھپت اور مل کے فاصلے کے حساب سے کم زیادہ ہو سکتا ہے)‘ یعنی 70‘75 روپے فی من کا خرچہ ہے۔ باقی110 روپے کاشتکار کو ملتے ہیں‘ بلکہ ملتے بھی کہاں ہیں؟ ملنے کا وعدہ ملتا ہے۔ 16 ارب روپے ابھی گزشتہ سال کے بقایا ہیں۔ ملیں بند ہیں۔ کاشتکار دھرنے دے رہا ہے۔ حکمران بے فکر ہیں اور ہم بچپن سے سن اور پڑھ رہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں