- Advertisement -

جس نے گند پھیلایا اسی کو کرسی میں بٹھادیا گیا جو ناقابل قبول ہے: پرویز الہٰی

- Advertisement -

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما و پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جس پریزائیڈنگ افسر کی وجہ سے سارا کچھ ہوا پھر اس کو دوبارہ پریزائیڈنگ افسر بنا دیا گیا ہے جو کسی شکل میں قابل قبول نہیں ہے۔
لاہور میں سابق وزیر قانون راجا بشارت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز الہٰی نے کہا کہ جس سے امید ہی نہیں ہے، جس نے سارا گند کروایا اور لوگوں کو زخمی کروایا اب اس افسر کو دوبارہ کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔
پرویز الہٰی نے کہا کہ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ پولیس کو کسی پارلیمنٹ میں اندر بلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے قانونی ٹیم سے مشاورت کرلی ہے اور کل تک کچھ فیصلے چھوڑے ہیں جن کا اعلان ہم کل کے بعد کریں گے، ان لوگوں نے ہمارے ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے ہیں اور اب کہتے ہیں کہ الیکشن کروا کر دکھاؤ۔
راجا بشارت نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جو فیصلہ آیا ہے اس میں لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر طے کردیا ہے کہ جو وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے 16 اپریل کو انتخاب ہوا تھا اس کو فیصلے میں کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ اب اگر عدالت نے انتخاب کالعدم قرار دے دیا ہے تو اب اس شخص (حمزہ شہباز) کو عہدے پر رہنا کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ وہ تو منتخب ہے ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ 16 تاریخ سے لے کر آج کی تاریخ تک اور کل دوبارہ انتخاب ہونے تک جتنے بھی اس کے ایکٹ تھے ان کو قانونی شکل دی گئی ہے تو عوام کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک شخص کا انتخاب ہی کالعدم ہو تو وہ بطور وزیر اعلیٰ کام ہی نہیں کر سکتا تو اب اس کے فیصلوں کو ہم کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 5 مخصوص نشستوں پر ہمارے اراکین کے لیے نوٹیفیکیش جاری ہونا ہے لیکن تاحال وہ نوٹیفیکیشن ہمیں نہیں ملا لیکن ہمارے خلاف آج ہی فیصلہ ہوا اور اس کی کاپیاں بھی آج ہی جاری ہوگئیں مگر جو بات ہمارے حق میں آتی ہے 5 دنوں سے اس پر ہمیں کاپیاں نہیں ملیں۔
راجا بشارت نے کہا کہ اس وقت ہمارا ایوان مکمل نہیں ہے کیونکہ 5 اراکین ایسے ہے ہیں جن کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ان کو ووٹ دینے کا حق ملنا ہے اور جبکہ 17 تاریخ کو 20 نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں جن کا شیڈول جاری ہو چکا ہے اور جب شیڈول جاری ہوجائے تو پھر اس حلقے میں کسی افسر کا تبادلہ بھی نہیں کر سکتے لیکن شیڈول اعلان ہونے کے بعد ان کے ووٹ دینے کے حق کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ووٹ نہ ڈال سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت 6 اراکین وہ ہیں جو ملک سے باہر ہیں اور نئے انتخاب کے لیے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ انتخاب کے لیے 24 گھنٹے سے کم وقت دیں اور ہم اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اس عمل کے پیچھے صاف سوچ نہیں ہے اور تھوڑے سے وقت میں انتخاب کرانے کا کہا گیا ہے جبکہ 5 اراکین کا نوٹیفیکیشن نہیں ملا اور کچھ اراکین ملک سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بالکل بھی شفاف عمل نہیں ہے ہم ان تمام معاملات کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جب رات کو 12 بجے ہمارے خلاف عدالتیں کھلی تھیں تو اب رات کو ہمارے لیے بھی عدالتیں کھولی جائیں اور ان لوگوں کو ووٹ کا حق دیا جائے گا اور جو ہمارے خدشات ہیں ان کو دور کیا جائے گا۔
ایک سوال پر کہ اگر کل عدالت کی طرف سے کوئی ریلیف نہیں ملتا تو کیا انتخاب کا حصہ بنیں گے تو پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ ہم عدالتوں سے اتنے بھی ناامید نہیں ہیں، ہمیں عدالتوں پر پورا اعتماد ہے جو یہ کہتی رہتی ہیں کہ ان کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ سب کی بات سنتی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر عدالت ان کو ریلیف دے اور 5 اراکین کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دے تو پھر نمبر گیم کیا ہوگی تو اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ صرف 5 اراکین بلکہ ان 20 اراکین کا کیا کرنا ہے جن کے ابھی انتخابات ہونے ہیں جبکہ ابھی 7 اراکین ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں تو ان کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔