- Advertisement -

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب؛ حمزہ شہباز اور پرویز الٰہی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش

- Advertisement -

وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں حمزہ شہباز اور پرویز الٰہی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمیٰ اسلام آباد میں جاری سماعت میں پیش ہوگئے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق تحریک انصاف کی اپیل پر سماعت کی، جس میں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب آج نہیں ہو سکتا۔
پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے دوبارہ الیکشن کے لیے وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ذہن میں 10 دن کا وقت تھا لیکن 7 دن کا عدالت سے وقت مانگا ہے۔ مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بھی 7دن تک ہو جائے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ملک کے کسی بھی حصے سے 24 گھنٹے میں لاہور پہنچا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں 7 دن تک پنجاب میں کوئی وزیراعلیٰ نہ ہو؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلیٰ کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔ فیصلے کے اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ کے لیے تیار ہیں؟ کس بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کریں؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لمبے عرصے تک صوبہ بغیر وزیراعلیٰ نہیں رہ سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا؟ بابر اعوان نے کہا کہ میری نظر میں موجودہ حالات میں سابق وزیراعلیٰ بحال ہو جائیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیر اعلیٰ کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیر آئینی ہوگا۔ آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں۔ 17 جولائی کو عوام نے 20 نشستوں پر ووٹ دینے ہیں۔ ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کریں تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ آگئی کہ لاہور ہائیکورٹ نے 24 یا 36 گھنٹے کیوں دیے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نہیں چاہتی تھی کہ صوبہ بغیر وزیراعلیٰ کے رہے ۔کئیر ٹیکر حکومت کا تو سوال ہی نہیں ۔ 1988 میں بھی صدر کی وفات کے بعد قائمقام صدر کے انتظامات سنبھالنے کو درست نہیں کیا گیا تھا ۔ اگر موجود وزیر اعلیٰ نہیں تو پھر کون ؟۔ اس کا آپ کے پاس جواب نہیں ۔
دوران سماعت سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور پرویز الٰہی کو لاہور رجسٹری میں فوری طور پر طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ملک کا مسئلہ ہے، انا کا نہیں۔ آرٹیکل 130 میں حل موجود ہے، کتابوں پر توجہ دیں۔ آدھے گھنٹے میں فریقین لاہور رجسٹری آجائیں، ڈپٹی اسپیکر کو بتادیں کہ سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم آرٹیکل 130 پر آئے تو دونوں کے لیے مسائل ہوں گے ۔ عدالت نے کہا کہ ابھی اجلاس روکنے کا باضابطہ حکم جاری نہیں کر رہے۔ دونوں امیدوار پونے 4 بجے تک آ جائیں تو 4 بجے تک فیصلہ ہوجائے گا۔
چیف جسٹس نے کچھ دیر کے لیے سماعت ملتوی کردی۔