- Advertisement -

وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

- Advertisement -

وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکا کے نئے سفیر کو پاکستانی میں تعیناتی کے بعد اسناد صدرمملکت کو پیش کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی سفیر پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے اور توسیع دینے کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لائیں گے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم نے سفیر کی جانب سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو اپنے اسناد پیش کرنے پر مبارک باد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ سفیر پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر کرنے اور توسیع کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
 
وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قائم تاریخی اور دیرینہ تعلقات اجاگر کیا اور باہمی احترام، اعتماد اور مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش دہرائی۔
بیان کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی قریبی شراکت داری کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان قائم ہونے والے مختلف مکالمے تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، صحت اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی اور آبادیاتی صلاحیت کے باعث امریکا کی ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی طرف سے پاکستان کی بڑی مارکیٹ میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک سے متعلق معاہدے کی وزارتی میٹنگ رواں سال کے آخر میں منعقد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور رواں سال میں ہی کاروباری مواقع پر کانفرنس کے انعقاد کا بھی اعادہ کیا۔
واضح رہے کہ اس سال پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ ہے۔
وزیر اعظم نے امریکی سفیر سے ملاقات میں امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اس تاریخی موقعے کو بھرپور طریقے سے منائیں گے، جس سے عوام کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مزید بات چیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقعے پر امریکی سفیر نے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کی فوری اور مؤثر مدد پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کو مزید توسیع دینے سے افغانستان میں امن اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ملک میں انسانی بحران کو روکنے میں مدد ملے گی جو کہ حالیہ زلزلے کی وجہ سے مزید بدتر ہوگیا ہے۔
بھارت میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو عہدیداروں کی طرف سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کی مذمت کی اور کہا کہ اس عمل سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے احساسات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔
خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے جموں اور کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی اور معیاری ذمہ داریاں پوری کریں جبکہ بھارت سے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم نے امریکا کے عوام اور حکومت کے لیے ان کے 246 ویں یوم آزادی پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان-امریکا تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے امریکا کے عزم کا اعادہ کیا۔
قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو امریکا کے سفیر کے علاوہ ترکی، آسٹریلیا، یورپی یونین، بھوٹان اور سوڈان کے نئے تعینات ہونے والے سفیروں نے ایوان صدر میں اپنی اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔
امریکا کے سفیر ڈونلڈ آرمن بلوم، ترکی کے سفیر ڈاکٹر محمت پاچاجی، آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز، یورپی یونین کی سفیر رینا کوئینکا، سوڈان کے سفیر صالح محمد احمد محمد صدیقی اور بھوٹان کے غیر مقیم سفیر رنچن کوئنسائل نے صدر سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے امریکی سفیر ڈونلڈ آرمن بلوم سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین باہمی احترام اور مفاد کے اصولوں پر مبنی تعمیری اور پائیدار روابط خطے میں امن، ترقی اور سلامتی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال پاک۔امریکا سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سال گرہ شایان شان طریقے سے منائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، صحت، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے فریم ورک معاہدے پر حوصلہ افز مذاکرات ہو رہے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہم امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور پاکستان امریکی کمپنیوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے۔