علیمہ خان کون ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟سہیل وڑائچ

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ نیازی خاندان کی وہ واحد خاتون ہیں جو شروع سے ہی اپنے دبنگ اظہار خیال اور اپنی چاروں بہنوں کی ترجمان کے طور پر سماجی حلقوں میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔حال میں ہی ان پر الزام لگا کہ دوبئی کے قلب میں واقع برج الخلیفہ سے

نامور صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ بی بی سی کے لیے اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ متصل ان کا سات کروڑ 40 لاکھ روپے کا فلیٹ ہے۔ابتدائی طور پر علیمہ خان نے اس جائیداد کو ظاہر نہیں کیا تھا جس پر انہیں قانونی نوٹس بھیجا گیا۔علیمہ خان کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں بھی کارروائی شروع ہوئی جس کے بعد سے اپوزیشن نے علیمہ خان کے جائیداد ظاہر نہ کرنے کو ایک ٹیسٹ کیس بنا لیا ہے۔عمران خان کے مخالف چاہتے ہیں کہ جس طرح نواز شریف کو ایون فیلڈ جائیداد ظاہر نہ کرنے پر سزا دی گئی ہے ایسی ہی سزا علیمہ خان کو بھی ملنی چاہیے۔ماسوائے علیمہ خان کے عمران کی باقی تین بہنیں روبینہ، ڈاکٹر عظمیٰ خانم، اور نورین رانی خانم کبھی کھل کر سیاسی یا سماجی سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوئیں۔علیمہ خان البتہ تحریک انصاف کے دھرنوں جلوسوں اور چیریٹی ڈنرز میں بھر پور حصہ لیتی رہی ہیں۔ وہ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی دونوں کے بورڈز میں شامل ہیں اور اکثر نمل کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے بیرون ملک کا سفر بھی کرتی رہتی ہیں۔عمران خان چاروں بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے ناطے ان کی محبتوں اور شفقتوں کا مرکز بھی ہیں۔

کرکٹ ہیرو بنے تو گھر والوں کو وہ اور بھی بڑے لگنے لگے، سیاست میں قدم جمائے تو پیار کرنے والی بہنیں محافظانہ کردار ادا کرنے لگیں۔ کبھی کبھی تو یہ بہنیں سرپرستی اور حفاظت کرنے والے کردار سے بڑھ کر ان کے معاملات میں مداخلت بھی کرتی رہی ہیں۔ روبینہ جو سب سے بڑی بہن ہیں انہوں نے اور علیمہ خان نے بنی گالہ میں بھائی عمران کے ساتھ ہی گھروں کے لیے زمینیں بھی خرید رکھی ہیں جہاں دونوں نے چھوٹی انیکسیاں بھی بنا رکھی ہیں۔ روبینہ نے شادی نہیں کی جبکہ علیمہ خان کے دو جوان بیٹے ہیں جبکہ خاوند انجینیئر سہیل امیر خان ایئرفورس کے ریٹارڈ آفیسر ہیں۔ علیمہ خان اپنے متحرک سیاسی اور سماجی کردار کے حوالے سے عمران خان کی زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ دخل اندازی کا الزام سہتی رہی ہیں۔ جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کے دنوں میں بہنوں پر مداخلت کا الزام نہیں لگا البتہ جمائما نے عمران خان سے اصرار کر کے انہیں لاہور کے زمان پارک میں واقع خاندانی گھر سے پہلے اسلام آباد کے ای سیون پھر ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع اپارٹمنٹ میں شفٹ کروا لیا جس کے بعد بنی گالہ کی زمین خریدی گئی اور یوں وہ مشترکہ خاندانی نظام سے الگ ہوئیں۔

بعد میں جمائما اور عمران خان میں جو علیحدگی ہوئی اس میں وزیراعظم کی بہنوں یا خاندان کا کوئی کردار نہ تھا جو بھی مسئلہ تھا ان دونوں میاں بیوی کے درمیان ہی تھا۔ مگر ریحام خان سے عمران خان کی شادی پر بہنوں کا سخت مخالفانہ ردعمل سامنے آیا اور عام طور پر گھر کے اندر چھپی رہنے والی لڑائی سرعام زیر بحث آتی رہی۔ اسی زمانے میں علیمہ خان نے ریحام خان کو کئی خطابات بھی دیے اور انہیں اپنی ناراضگی اور گلے شکووں پر مبنی کئی ایس ایم ایس اور واٹس ایپ میسیج بھی کیے۔ ریحام خان کی کہانی پہ یقین کیا جائے تو وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے عمران خان کو علیمہ خان کی گالیوں اور پیغامات کے بارے میں بتایا تو عمران خان کا فوری ردعمل یہ تھا کہ علیمہ نئے پاکستان کی فاطمہ جناح بننا چاہتی ہے۔ اس فقرے کی تشریح کی جائے تو نئے پاکستان کے بانی عمران خان اگر آج کے قائداعظم محمد علی جناح ہیں تو ان کے ساتھ جدوجہد کرنے والی بہن کی خواہش ہےکہ وہ نئے پاکستان کی فاطمہ جناح کا مقام اور مرتبہ حاصل کریں۔جبکہ حقیقت یہ ہے شاید عمران خان علیمہ خان کے اتنے قریب نہیں ہیں جتنے قائداعظم فاطمہ جناح کے قریب تھے۔ اس لیے عمران خان بھی نہیں چاہیں گے کہ علیمہ خان کو یہ مقام دیا جائے۔

بلکہ وزیراعظم کی حلف برداری اور بشریٰ وٹو کے ساتھ اپنی شادی جیسے دو اہم ترین مواقع پر اپنی بہنوں کو نہ بلا کر انہوں نے انکی اہمیت یا اثررسوخ کو کم سے کم ثابت کرنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف عمران خان کے مخالف علیمہ خان کو فاطمہ جناح کا مرتبہ تو کیا دیں گے وہ انھیں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور بنانا چاہتے ہیں۔ یعنی جس طرح فریال تالپور پر مقدمات قائم ہیں مخالف چاہتے ہیں علیمہ خان پر بھی ایسے ہی مقدمات قائم ہوں اور عمران خان بھی آصف علی زرداری کی طرح بدنام ہوں۔ اور ان کی بہن کا مقام اور مرتبہ فریال تالپور جیسا متنازعہ ہو جائے۔ عمران خان کے خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے تو ظاہر ہے کہ عمران خان کے شفافیت کے دعووں پر بہت ہی برا اثر پڑے گا۔ عمران خان کے والد انجینیئر اکرام اللہ خان میانوالی کے نیازی جبکہ والدہ شوکت خانم بستی پٹھاناں جالندھر کی برکی پٹھان تھیں۔ شادی کے بعد انہوں نے زمان پارک لاہور میں ہی گھر بنایا جہاں شوکت خانم کی برکی فیملی پہلے ہی سے آباد ہو چکی تھی۔عمران خان نے کرکٹ زمان پارک میں اپنے خالہ زادوں جاوید برکی اور ماجد خان کے ساتھ کھیل کر سیکھی۔

عمران خان کی بڑی بہن لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھیں اور پھر زندگی بھر اقوام متحدہ میں نوکری کی۔ اب پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہی ہیں۔ بڑی اور درویش صفت ہونے کے ناطے خاندان میں رعب داب بھی رکھتی ہیں۔علیمہ خان نے لمز یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا بعدازاں ایک سہیلی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا بزنس شروع کیا جو بہت چمکا۔ سہیلی سے شراکت ختم ہوگئی لیکن کاروبار چلتا رہا۔کاروبار کے دور عروج میں انہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بھی ٹھیکے ملے اور یوں انہیں کامیاب کاروباری خاتون کہا جاسکتا ہے۔اب ان کے بزنس میں ان کے دونوں بیٹے شاہ ریز اور شیر شاہ بھی شریک کار ہیں۔ اپنے اس بزنس کے حوالے سے ان کا بیرون ملک بھی آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ دبئی کا یہ فلیٹ اسی زمانے میں خریدا گیا جب وہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کا بزنس کر رہی تھیں۔خاندان میں روبینہ کو احترام حاصل ہے تو علیمہ خان کا غصہ مشہور ہے۔ وہ اکثر اپنے موقف کا اظہار جارحانہ انداز میں کرتی ہیں۔ بشریٰ وٹو سے شادی سے پہلے ہی مشترکہ خاندانی نظام تو ختم ہو چکا تھا مگر زمان پارک کی شکل میں مشترکہ خاندانی گھر بہرحال موجود تھا۔

اس گھر کا انتظام و انصرام عمران خان کی بہن نورین (رانی)خان کے سپرد تھا۔جن کی شادی چچا زاد انجینیئر حفیظ اللہ نیازی سے ہوئی وہ اپنے بیمار والد کی دیکھ بھال اور مشترکہ گھر کی نگہبانی کے لیے اسی گھر میں مقیم رہیں۔ 2013ء میں حفیظ اللہ نیازی کے عمران خان سے سیاسی اختلافات ہوئے تو حفیظ اللہ الگ گھر میں منتقل ہوئے البتہ ان کے بیوی بچے زمان پارک والے گھر میں ہی مقیم رہے۔بقول حفیظ اللہ نیازی اس گھر کا خرچ وہ خود ہی چلا تے تھے۔ تاہم تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ زمان پارک والا گھر مسمار کر کے اس پر نئی تعمیر کی جا چکی ہے۔ اب کوئی بہن اس گھر میں نہ رہتی ہے اور نہ آتی جاتی ہے۔ یہ مکمل طور پر عمران خان کے زیرِ استعمال ہے۔ جہاں بشریٰ وٹو لاہور آئیں تو اس گھر کا چکر لگا لیتی ہیں۔برصغیر پاک و ہند میں روایتی طورپر بہنیں بھائیوں پر جان چھڑکتی ہیں بھائی ایک ہو اور بہنیں چار تو محبت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ بھائی ہیرو اور پھر وزیر اعظم بن جائے تو بہنوں کو اور بھی اچھا لگتا ہے لیکن عمران خان برطانیہ میں طویل قیام کے بعد سے اپنے جذبات کے اظہار میں باقی پاکستانیوں جیسے گرم جوش نہیں۔اسی لیے علیمہ خان ہو یا کوئی دوسری بہن وہ اس کے لیے اپنے سیاسی کیریئر کو ذرا سی زک بھی نہیں پہنچنے دیں گے۔ وہ شاید یہ تو چاہیں گے کہ بہن علیمہ خان کا کوئی مالی سکینڈل نہ بنے لیکن اگر انھیں کہیں سے سزا سنائی گئی تو عمران خان انھیں بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے۔مثال کے طور پر ماضی میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے انہوں نےاپنے کزن ماجد خان کو اوور ایج ہونے کی وجہ سے نکال باہر کیا تھا اب سے تب تک دونوں خاندانوں میں ناراضی بر قرار ہے اور 2013 میں انھوں نے اپنے کزن انعام اللہ نیازی کو ٹکٹ نہ دے کراپنے بہنوئی اور کزن حفیظ اللہ نیازی کو بھی ناراض کر لیا ان دو مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ عمران خان اپنے کیرئیر کو کسی کے لیے داؤ پر نہیں لگاتے چاہے کوئی قریبی رشتہ دار ہو یا بہن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ ہر صورت میں میرٹ پر ہی چلیں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں