فیس بک نے شی جنگ پنگ کے نام کے ہتک آمیز ترجمے کا ذمہ دار کس کو ٹھہرا دیا؟ جانیے اس خبر میں

فیس بک نے چینی صدر کے نام کی برمی زبان سے انگریزی زبان میں ترجمے کے دوران ایک بیہودہ لفظ تجویز کیے جانے پر معافی مانگی ہے۔
یہ بے تکا ترجمہ چینی صدر شی جنگ پنگ کے میانمار کے دوسرے کے دوسرے دن سامنے آیا۔ سنیچر کو شی جنگ پنگ کی میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کے درمیان دو طرفہ تعلقات بڑھانے کے لیے ملاقات کی۔ برمی فیس بک پوسٹ پر ان کی ملاقات کے بارے میں لکھا گیا۔ اس پوسٹ میں صدر شی جنگ پنگ کے نام کا انگریزی میں غلط طور پر ترجمہ ہوا۔ آنگ سان سوچی اور ان کے دفتر کے سرکاری اکاؤنٹ پر چینی صدر کے نام کا انگریزی ترجمہ ’مسٹر شِٹ ہول‘ دکھائی دے رہا تھا۔
فیس بک نے سنیچر کو ایک بیان میں اس غلطی کے حوالے بات کرتے ہوے اس کا ذمہ دار ’تکنیکی غلطی‘ کو ٹھہرایا۔ فیس بک کے ترجمان اینڈے سٹون کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس تکنیکی مسئلے کو ٹھیک کر دیا ہے جس کی وجہ سے برمی زبان سے انگریزی زبان میں غلط ترجمہ ہوا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اور ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔ برمی میانمار کی سرکاری زبان ہے اور ملک میں دو تہائی آبادی یہی زبان بولتی ہے۔ فیس بک نے یہ تسلیم کیا ہے کہ شی جنگ پنگ کا نام برمی سے انگریزی میں ترجمہ کرنے والی ڈیٹا بیس میں نہیں ڈالا گیا تھا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ’جب ایسا ہو کہ ڈیٹا میں کوئی لفظ موجود نہ ہو تو فیس بک میں موجود سسٹم ترجمے کا اندازہ اس سے ملتے جلتے لفظوں سے لگاتا ہے۔`بیان میں مزید کہا گیا ہے ک ژی اور شی سے ہی شروع ہونے والی برمی زبان کے الفاظ کے مرکب کے معنی ’شٹ ہول‘ (گٹر) جیسے ہی ہیں۔
مسٹر سٹون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم برمی زبان کے حوالے سے فیس بک پر ترجمے کے متعلق آگاہ ہیں اور ہم اسے جد ازجلد درست کرنے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ اتوار کی صبح آنگ سان سوچی اور حکومت کے فیس بک اکاؤنٹ پر لگی پوسٹ پر انگریزی ترجمہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ اس بے تکے ترجمے کو چین میں اس خبر کی کوریج کے دوران سینسر کر دیا گیا کیونکہ وہاں اطلاعات حکومت کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔
میانمار سے صدر شی جنگ پنگ سیاسی اور معاشی طور پر تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ دو روزہ دورے کے دوران انفراسٹرکچر سے متعلق معاہدوں پر دونوں ملکوں کے سربراہان نے دستخط کیے۔ آنگ سان سوچی اور شی جنگ پنگ کے درمیان یہ ملاقات بین الاقوامی عدالت انصاف میں مس سوچی کی پیشی کے ایک ماہ بعد ہوئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...