موٹروے پرموٹرسائیکل چلانے کی اجازت، سپرم کورٹ نے کس سے مدد طلب کی؟؟؟ اہم خبر آگئی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے موٹر وے پرموٹرسائیکل چلانے کی اجازت کیخلاف اپیل پرتکنیکی ماہرین کی رائے طلب کرلی ہے۔

سپریم کورٹ میں موٹر وے پرموٹرسائیکل چلانے کی اجازت کیخلاف اپیل پرسماعت ہوئی، جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومت کے پاس اختیار ہے موٹروے پر پابندی کا فیصلہ کرے ۔

عدالت نے کہا کہ موٹر وے اورہائی ویزپرگاڑیاں چلانے سے متعلق قوانین موجود ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل موٹروے پرموٹرسائیکل نہ چلانے سے متعلق وجوہات دیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آغاز میں موٹروے پولیس کو موٹر سائیکل دی گئی جو بعد میں بند کردی گئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا موٹروے پر موٹر سائیکل محفوظ نہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تکنیکی ماہرین کاکہنا ہے موٹروے پر موٹرسائیکل محفوظ نہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ موٹر وے پر موٹر سائیکل پر پابندی کی کچھ وجوہات تو ہونی چاہئیں۔

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کیا روڈ گرپ کا معیار چیک کرنے کیلئے کوئی سروے کیا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ رگڑکا معیار کیا گاڑی کیلئے چیک نہیں کیا جاتا ؟انجینئراین ایچ اے نے کہا کہ ابھی میرے پاس اعدادوشمار نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ لوگوں کی جان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، جن لوگوں نے ہیوی بائیکس لے رکھی ہیں وہ کہاں چلائیں؟

عدالت نے موٹر وے پرموٹرسائیکل چلانے کی اجازت کیخلاف اپیل پرتکنیکی ماہرین کی رائے طلب کرلی۔ عدالت نے کہا کہ موٹر وے پر موٹرسائیکل چلانے سے متعلق سفارشات حکومتی ماہرین سے نہ لی جائیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومتی ماہرین سے رائے نہیں لیں گے۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں حکم جاری کرنے کی کوئی جلدی نہیں ،عدالت نے سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...