فلم ساز سرمد کھوسٹ عدالت پہنچ گئے، عدالت سے بڑا مطالبہ کر ڈالا

فلم ساز سرمد کھوسٹ نے اپنی آنے والی فلم ’زندگی تماشا‘ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کے خلاف پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی سول کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
سرمد کھوسٹ نے اپنے وکلا ظفر اقبال اور شفقت پروین کی توسط سے سول کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ شرپسند عناصر نے فلم ’زندگی تماشا‘ کو روکنے کے کال دی رکھی ہے جب کہ انہیں فلم ریلیز کرنے کے حوالے سے دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
سرمد کھوسٹ کی جانب سے دائرہ کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے نے اپنے کارکنان کو فلم کی ریلیز روکنے کے لیے ہدایات بھی جاری کر رکھی ہیں۔
اپنی درخواست میں فلم ساز نے کہا ہے کہ ’زندگی تماشا‘ کسی انفرادی گروہ یا شخص سمیت کسی بھی اجتماعی گروہ یا فرقے کے خلاف نہیں بنائی گئی بلکہ فلم کو صرف تفریح اور سماج کے اچھے پہلو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
فلم ساز نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ ’زندگی تماشا‘ سماج کے اچھے پہلوؤں پر بنائی گئی ہے اور اس سے لوگوں کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی۔
درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ ہے کہ ’زندگی تماشا‘ کو پاکستان فلم سینسر بورڈ نے کلیئر قرار دے کر ریلیز کے لیے سرٹیفکیٹ بھی جاری کر رکھا ہے جب کہ فلم کو رواں ماہ 24 جنوری کو ریلیز کیا جانا ہے۔
سرمد کھوسٹ نے درخواست میں کہا ہے کہ ان کی فلم سے کسی کے بھی مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوئے بلکہ فلم کو معاشرے میں بہتری لانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
فلم ساز نے عدالت سے درخواست کی کہ عدالت شرپسند عناصر کو ریلیز میں رکاوٹیں ڈالنے سے روکنے کا حکم دے۔
سرمد کھوسٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سول جج ضیاء الرحمٰن نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 جنوری کو دلائل کے لیے طلب کرلیا ہے۔
 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...