نیب نے شہباز شریف کے گرد اپنا شکنجہ سخت کرنا شروع کردیا، لیگی قیادت پریشان

شریف خاندان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے لگا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بعد نیب نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے گرد بھی اپنا شکنجہ سخت کرنا شروع کردیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس تیاری کے حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب کو پہلے ہی ضمنی ریفرنس داخل کرنے کی ہدایت کررکھی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف خاندان کی خواتین اورچند دیگر اراکین کی عدم پیشی کے باعث ضمنی ریفرنس داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب نے ہدایت دے رکھی ہیں کہ اہم مقدمات (ہائی پروفائل) کو فی الفورمنطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہبازسمیت کل 9 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے اور منی لانڈرنگ کے ریفرنسز تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔

ضمنی ریفرنس میں شہباز شریف خاندان کی بے نامی کمپنیوں، گڈ نیچر، یونی ٹاس اور وقار ٹریڈنگ کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شریف خاندان کی بے نامی کمپنیوں سے چار ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئیں اور دوران تفتیش خاندان تین ارب سے زائد کے اثاثوں سے متعلق مطمئن نہیں کر سکا۔

ذرائع کے مطابق ضمنی ریفرینس میں شریف خاندان کے ذاتی ملازم فضل داد عباسی، منی ایکسچینجر قاسم قیوم ، نثار احمد اور راشد کرامت سمیت وعدہ معاف گواہ بننے والے چار ملزمان کو بھی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...