امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ اکنامک فورم سے اہم خطاب، بے روزگاری میں کمی کے حوالے سے بڑا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میرے دوراقتدار میں بے روزگاری میں ریکارڈ کمی آئی، پہلی بار بڑی تعداد میں خواتین امریکی ورک فورس کا حصہ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے 50ویں اجلاس پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے ہفتے 2 بڑے تجارتی معاہدے چین، میکسیکوسے کیے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اقتدار سنبھالا تو امریکی معیشت خراب تھی، ماہرین نے امریکی معیشت کے بارے میں منفی پیشگوئی کی تھی، امریکی ورکنگ کلاس کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق الیکشن جیتنے کے بعد امریکیوں کے مفاد میں معاشی اقدامات کیے، میرے دوراقتدار میں بے روزگاری میں ریکارڈ کمی آئی، رنگ،نسل، مذہب کے امتیاز کے بغیر امریکیوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار بڑی تعداد میں خواتین امریکی ورک فورس کا حصہ ہیں جبکہ ملازمین کی تنخواہوں میں سی ای اوز سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے، امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس ریفارم متعارف کرائیں۔

ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب عوامی مفاد کو اولیت دیتے ہیں تو وہ مستقبل کے لیے سرمایہ کاری ہوتی ہے، ہماری کوششوں سے سرمایہ کار امریکا کا رخ کر رہے ہیں۔

چین سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین نے انٹلکچوئل پراپرٹی سے متعلق متعدد اقدامات پر پہلی باراتفاق کیا، چین کے صدرسے بہترین تعلقات ہیں، چین پر متعدد ٹیرف بات چیت کے دوسرے مرحلے تک رہیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میری انتخابی مہم میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا سب سے بڑا نعرہ تھا، ہم نے آؤٹ سورس اور تنخواہوں میں اضافہ کیا، پچھلی حکومت کے دورمیں بیروزگاری بڑھی تھی۔

امریکی صدر کے مطابق ورکنگ کلاس کو پچھلی حکومتوں میں مشکلات کا سامنا تھا، صحت،سماجی بہبود کے شعبوں میں بھی کوئی کام نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی اتحادی کلین انرجی کے ذخائر سے مستفید ہوسکتے ہیں، روایتی توانائی کے علاوہ ورچوئل انرجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایک ٹریلین درخت منصوبے کا حصہ بن رہا ہے، منصوبے کا ورلڈ اکنامک فورم نے پچھلے سال اعلان کیا تھا، یہ وقت امید اور کام کرنے کا ہے مایوسی کا نہیں ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...