ملک میں توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں گرفتار نوجوان نے دوران تفتیش حیران کن انکشافات کر ڈالے

لاہور (ویب ڈیسک) :آسیہ بی بی کیس کے بعد ملک میں ہونے والے مظاہروں اور توڑ پھوڑ کے نتیجے میں مذہبی جماعت کے کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔تاہم ایک کارکن کی پولیس اسٹیشن میں کی جانے والی تفتیش کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ مجھے احتجاج میں شامل ہونے کے لیے 1 ہزار روپے دیا گیا تھا۔ویڈیو میں نوجوان کا کہنا ہے کہ میرا نام زین علی ہے اور مجھے احتجاج کے دوران ایک حاجی ساجد نامی شخص نے مظاہروں کا حصہ بننے کے لیے ہزار روپے دیے تھے۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ میں رکشہ چلاتا تھا مجھے حاجی ساجد نے کہا کہ تم آج رکشہ چلانے کی بجائے احتجاج میں شامل ہو جاؤ اس کے بدلے میں تمہیں ہزار روپے دیں گے۔میں دھرنے میں ایک دن شامل ہوا لیکن پھر مجھے میرے ماموں نے احتجاج میں شامل ہونے سے منع کیا۔
نوجوان نے احتجاج کے دوران کلہاڑی لے کر آنے والے شخص سے متعلق بھی بتایا اور کہا کہ میرے پاس کلہاڑی نہیں بلکہ ڈنڈا تھا اور میں نے سڑک بلاک کی تھی۔

جب کہ دوسری جانب بتایا جا رہا ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے قائدین کے درمیان بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی جس کے پیش نظر کراچی سنٹرلجیل، بنوں جیل،خضدار جیل ،کوٹلی جیل،صوبہ پنجاب کی لاہور اور حافظ آباد کی جیلوں سے پہلے مرحلے میں تحریک لبیک پاکستان کے 322 رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کردیا گیا۔

رہائی پانے والوں نے بھی اس بات کی یقین دہائی کروائی کہ وہ کوئی ایسا عمل نہیں کریں گے جو ملک میں بے چینی پیدا کرنے اورامن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے زمرے میں آتا ہو۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے مابین ہونے والے مذاکرات کے تحت آئندہ دنوں میں دوسرے مرحلے میں بھی تحریک لبیک پاکستان کے مزید رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیے جانے کا امکان ہے ۔ اس حوالے سےاُمید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد تحریک لبیک پاکستان کے اہم قائدین کے متعلق بھی بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں