کپتان کی وزراء سے توقعات: اک خواہشِ ناتمام۔۔۔۔۔نسیم شاہد

لاہور (ویب ڈیسک) سوال تو یہ بھی ہے کہ وزیروں کو دفاتر میں بٹھانے سے کیا مسائل حل ہو جائیں گے؟۔۔۔ گھاگ قسم کی بیورو کریسی کے ہوتے ہوئے وزراء آٹھ کی بجائے 16گھنٹے بھی بیٹھے رہیں تو عوام کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کے وزراء کو

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وارننگ تو دے دی ہے کہ وہ دفاتر میں حاضر نہ رہے تو وزارت واپس لئے جانے پر شکوہ نہ کریں، مگر وزراء آخردفاتر میں بیٹھ کر کریں گے کیا؟ جہاں بھی وزیر اور محکمے کے سیکرٹری کی ان بن ہو جاتی ہے، پلڑا ہمیشہ سیکرٹری ہی کا بھاری رہتا ہے،کیونکہ اصل اختیارات اس کے پاس ہوتے ہیں، وزیر فائلوں پر دستخط کر کے سیکرٹری کو بھیجتارہے، جب تک سیکرٹری صاحب بہادر کا دل نہ چاہے فائل باہر نکل ہی نہیں سکتی۔ عمران خان پہلا کام تو یہ کریں کہ وزراء کی تربیت کا کوئی اہتمام کریں۔انہوں نے وزارتیں سیاسی بنیاد پر بانٹ دی ہیں۔ وزیروں کو اپنے محکموں کا پتہ نہیں، نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ اُن کی وزارت میں شامل دفاتر کے مسائل کیا ہیں؟ انہیں تو رولز آف بزنس کا بھی علم نہیں، اس لئے سب سے پہلے تو وزراء کی تربیت ہونی چاہئے، تاکہ وہ سیکرٹری کے مقلد نہ بنیں، اسے گائیڈ لائن دیں۔ حال ہی میں سب نے دیکھا کہ وزیر پٹرولیم غلام سرور خان گیس کے بحران کو حل کرنے میں بُری طرح ناکام رہے، انہیں وزیر اعظم نے کراچی تو بھیج دیا، مگر اُن کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہیں تھا کہ

گیس بحران اچانک کیوں پیدا ہوا اور اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جانی چاہئے؟ پٹرولیم کی وزارت بہت پُرکشش ہے۔ انہوں نے کپتان سے یہ وزارت چودھری نثار علی خان کو شکست دینے کے انعام میں حاصل تو کرلی، مگر اُن کے پاس اس وزارت کے حوالے سے نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی انہوں نے ہوم ورک کر رکھا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گیس بحران حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے اور کوئی حکومتی شخصیت اس بحران کی ذمہ داری اُٹھانے کو تیار نہیں۔ اس سے پہلے یہ بھی سب دیکھ چکے ہیں کہ اسد عمر وزیر خزانہ کی حیثیت سے چیلنجوں پر پورا نہیں اُتر سکے، وہ صرف تسلیاں دے رہے ہیں، حالانکہ وقت عملی اقدامات اُٹھانے کا ہے، وہ روزانہ کسی چینل پر آکر بلند بانگ دعوے تو کر جاتے ہیں، لیکن معیشت کو بہتر بنانے کے کسی بھی قابل عمل فارمولے سے محروم ہیں۔ عمران خان کا یہ کہہ دینا بڑا انقلابی اعلان نظر آتا ہے کہ جو وزیر کام نہیں کرے گا، وہ گھر جائے گا، مگر وزیروں کا کام ہے کیا؟ کچھ اس کا بھی تو انہیں علم ہونا چاہئے۔ عینک والا جن ڈرامہ سیریل کا ایک کردار بار بار یہ جملہ بولتا ہے،

’’مَیں کیا کروں،مَیں کس کو کھاؤں۔۔۔ کوئی کام بتاؤ، مَیں کیا کروں‘‘۔۔۔ اس وقت تحریک انصاف کے وزراء کی بھی یہی حالت نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم اُن سے سو دن کی کارکردگی کا حساب مانگ رہے ہیں اور وہ گریبان جھانک رہے ہیں۔ کیا دکھائیں، کیا نہ دکھائیں، سوائے اطلاعات کے وفاقی و صوبائی وزراء کے باقی وزیروں کو تو ابھی تک پتہ ہی نہیں کہ محکمے کو درست کیسے کرنا ہے؟ فواد چودھری اور فیاض الحسن چوہان نے بھی چونکہ مسلم لیگ(ن) پر تنقید ہی کرنی ہوتی ہے، اس لئے وہ اپنا یہ کام کئے چلے جا رہے ہیں، یہ تو بہت آسان کام ہے، خاص طور پر جب آپ وزیر اطلاعات بھی ہوں اور اشتہارات دینے کا اختیار بھی آپ کے پاس ہو۔ دِن میں دو، تین پریس کانفرنسیں کر کے اپنا چہرہ ٹی وی سکرین پر دکھاتے رہنا کون سا مشکل کام ہے، مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے میڈیا کے مسائل بارے کیا سوچا ہے، آزادئ اظہار کو یقینی بنانے پر کیا توجہ دی ہے، اخبارات جن معاشی مسائل کا شکار ہیں،انہیں ختم کرنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟ اس پر وہ توجہ دینے کو تیار نہیں،البتہ نوازشریف، شہباز شریف،بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز شریف کے خلاف بولنا ان کا مرغوب مشغلہ نظر آتا ہے۔

وزیراعظم نے یہ تو بڑی آسانی سے کہہ دیا ہے کہ جو افسر کام نہ کرے،اسے نکال باہر کریں، کیونکہ اگر عوام کے مسائل حل نہ ہوئے تو لوگوں نے سرکاری افسروں کو نہیں وزراء کو ڈنڈے مارنے ہیں، مگر شاید وہ یہ بھول گئے کہ افسروں کو باہر نکالنا اتنا آسان نہیں۔پاکپتن کے ڈی پی او کے محض تبادلے کی پاداش میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار بڑی مشکل سے بچے ہیں،جبکہ اعظم سواتی تو آئی جی کے تبادلے پر اپنی وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس لئے کسی وزیر کے پاس اگر اپنے سکرٹری یا ماتحت افسران کے خلاف ٹھوس مواد نہ ہو تو انہیں نکال باہر کرنا خطرے سے خالی نہیں۔اب کوئی وزیر ایسا خطرہ مول نہیں لے گا، بلکہ اس کی کوشش ہو گی کہ محکمے کے سیکرٹری سے بنا کر رکھے اور اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے اس کی منت کرتا رہے۔ کپتان نے تو خیبرپختونخوا کی بات کی ہے۔ وہاں بیٹھ کر بھی وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تعریف کرنا نہیں بھولے۔ بقول ان کے عثمان بزدار اتنے مضبوط وزیراعلیٰ ثابت ہوں گے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے عثمان بزدار کی مثبت باتوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ حوالہ بھی دیا کہ شہباز شریف کے برعکس عثمان بزدار نے سادگی کا کلچر اپنایا ہے۔

تین چار دفاتر نہیں بنائے،بلکہ صرف ایک دفتر قائم کر رکھا ہے،جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کی بچت ہوئی ہے۔ یہ سب باتیں تو ٹھیک ہیں، مگر انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ عثمان بزدار نے پنجاب میں گورننس کتنی بہتر بنائی ہے؟ حالت یہ ہے کہ پنجاب میں گورننس نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔ عثمان بزدار کے وزرا، کیا کر رہے ہیں، کوئی بتا سکتا ہے تو بتائے۔ فی الوقت تو اکثریت اپنے کام سے نابلد نظر آتی ہے۔ پنجاب میں تو کپتان خطاب کرتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں فارورڈ بلاک کا کوئی خطرہ نہیں، اس لئے کسی وزیر سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ خیبرپختونخوا میں واقعی نہ تو فارورڈ بلاک کا خطرہ ہے اور نہ عدم اعتماد کا، کیونکہ اسمبلی میں تحریک انصاف کو واضح برتری حاصل ہے، لیکن پنجاب میں تو عثمان بزدار کی حکومت محض چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے۔ یہاں اگر وزراء کو عدم کارکردگی پر فارغ کیا گیا تو فارورڈ بلاک بھی بن سکتا ہے، عدم اعتماد کی تحریک بھی کامیاب ہو سکتی ہے تو کیا پنجاب میں وزراء، کی کارکردگی جانچنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں اور کپتان عثمان بزدار سمیت تمام وزیروں کو کلین چٹ دیئے رکھیں گے۔

یہاں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ پنجاب میں بیورو کریسی سب سے زیادہ منظم اور مضبوط ہے،اب تو یہ ایک طاقتور لابی ہے جو اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لئے متحد بھی ہو جاتی ہے۔یہ منظر بھی صرف پنجاب میں دیکھا گیا کہ جب احد چیمہ کو گرفتار کیا گیا تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری تک کی سطح کے افسران ان سے اظہار یکجہتی اور احتجاج کے لئے نیب عدالت کے باہر پہنچ گئے، سیکرٹریٹ کو تالے لگائے اور سیاہ پٹیاں باندھ کر کام کیا۔ اس میں سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ جنہوں نے باقاعدہ احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف پریس کانفرنس کی اور احتجاج کرنے والے افسران کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی۔ اب پنجاب میں ایسی بگڑی ہوئی بیورو کریسی کو عثمان بزدار کیسے سیدھا کر سکتے ہیں؟ان کے وزراء تو ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں، پھر ان کے پاس نہ تو اپنے محکموں کا تجربہ ہے اور نہ مکمل معلومات۔ انہیں تو قدم قدم پر اپنے سیکرٹری کی مدد لینی پڑتی ہے۔ ان سے صرف یہ کہہ دینا کہ کام نہ کرنے والی بیورو کریسی کے خلاف کارروائی کریں،انہیں امتحان میں ڈالنے والی بات ہے۔ وزیراعظم اپنے وزیر کو تو گھر بھیج سکتے ہیں، سیکرٹری یا آئی جی کو گھر بھیجنے کے لئے انہیں کئی بار سوچنا پڑے گا۔

آج سب پوچھتے ہیں کہ وہ نیا پاکستان کہاں ہے، جس کا تحریک انصاف نے وعدہ کیا تھا، مگر انہیں کوئی جواب نہیں ملتا۔ کابینہ میں وزراء کی تعداد تو بڑھ رہی ہے، کارکردگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ابھی کل ہی سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پنجاب حکومت سست روی کا شکار ہے۔ جو بھی کہا جاتا ہے،وہ نہیں ہوتا۔ حکومت صرف وزیروں کا تو نام نہیں، حکومت تو وہ ہے جو صوبے کے دارالحکومت سے لے کر تحصیل کی سطح تک موجود ہوتی ہے۔ اس حکومت کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے، اس پر عمران خان نے کتنی توجہ دی ہے؟جب تک یہ حکومت نیا جنم نہیں لیتی اس وقت تک عوام کو احساس نہیں ہوگا کہ تبدیلی آ گئی ہے۔ پتہ نہیں کپتان کے علم میں یہ بات ہے یا نہیں کہ ان کے ارکان اسمبلی بھی ایک بڑی سیاسی قوت ہیں۔ وہ بھی حالات بگاڑنے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ابھی کل ہی یہ خبر چھپی ہے کہ میپکو ملتان میں ایک ماہ کے دوران ارکان اسمبلی کے دباؤ یا سفارش پر دو سو سے زائد افسران کے تبادلے ہوئے ہیں۔ یہ تبادلے صرف اس وجہ سے ہوئے ہیں کہ ارکانِ اسمبلی اپنے من پسند افسران تعینات کرانا چاہئے تھے۔ایک طرف حکومت بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے تو دوسری طرف ارکان اسمبلی کے دباؤ پر سفارشی افسران تعینات کئے جا رہے ہیں، کیا یہ بہت بڑا تضادنہیں۔ یہ سفارشی افسران کیا بجلی چوروں پر آہنی ہاتھ ڈال سکیں گے۔ کیا وہ اپنے ’’محسن‘‘ رکن اسمبلی کا فون سن کر بجلی چوروں سے رعایت نہیں برتیں گے؟ تو صاحبو! صورتِ حال اتنی سادہ نہیں جتنی وزیراعظم کی اس تنبیہ کے بعد لگتی ہے کہ وزراء اپنے دفاتر میں بیٹھنا یقینی بنائیں اور کام کریں، جو وزیر کام نہیں کرے گا، گھر جائے گا۔ عمران خان نے ابھی کچھ دن پہلے ہی تو وزراء کو کلین چٹ دی ہے۔ اب ایسے دودھ کے دھلے وزراء سے یہ امید تو نہ رکھی جائے کہ وہ راتوں رات ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ ابھی تو انہیں اپنی وزارتوں کا ناک نقشہ ہی سمجھ نہیں آرہا، ان کی حالت بدلنا تو دور کی بات ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں