- Advertisement -

آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کا معاہدہ ملتوی ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، مفتاح اسماعیل

- Advertisement -

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرض کے حصول کا معاہدہ ملتوی ہونے کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ’گلوبل ولیج اسپیس‘ نامی ادارے کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ جاری کرتے ہوئے وضاحت کی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’اینٹی کرپشن ریگولیشنز‘ پر مبینہ تعطل کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام ملتوی ہوگیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق قوانین پر نظرثانی کا خواہاں ہے جبکہ حکومت نیب سے متعلق قوانین کے علاوہ دیگر مالیاتی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے تاہم وزیر خزانہ نے اس رپورٹ کو حقیقت کے برعکس اور غلط قرار دیا ہے۔
 
مفتاح اسمٰعیل نے ٹویٹر پر وضاحت کی کہ میں حیرت کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کے کسی انسداد بدعنوانی قانون کی وجہ سے ملتوی ہونے سے متعلق تمام ٹویٹس اور خبریں پڑھ رہا ہوں مگر اس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور معاہدے ٹریک پر ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے جون 2019 میں پاکستان کے معاشی منصوبے کے لیے تین سالہ 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد ملکی معیشت میں پائیدار ترقی اور معیار زندگی بہتر بنانا تھا۔
وزیر خزانہ نے 28 جون کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو ساتویں اور آٹھویں مشترکہ جائزوں کے لیے آئی ایم ایف کی طرف سے قرض دینے کے لیے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسیز (ایم ای ایف پی) موصول ہو گیا ہے۔
ایم ای ایف پی کے تحت پیشی اقدامات میں وفاقی بجٹ کی آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیے گئے معاہدے کے مطابق منظوری شامل ہے، جو 24 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، اس کے تحت صوبائی حکومتوں کے دستخطوں کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو پیش کرنا بھی شامل ہے، جس کے مطابق صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر تقریباً 750 ارب روپے کا کیش سرپلس وفاق کو فراہم کریں گی۔
ایم ای ایف پی بجٹ اقدامات پر مبنی ہے، جس کا اعلان مفتاح اسمٰعیل نے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں نظرثانی شدہ بجٹ پر اپنی اختتامی تقریر میں کیا تھا جس میں 17 کھرب 16 ارب روپے کی (جی ڈی پی کا 2.2 فیصد) مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، جس میں زیادہ تر 10 ٹیکس کے ذریعے حاصل کیا جائے گا، ان ٹیکسوں میں 13 صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس اور 50 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ کی آمدنی پر ذاتی انکم ٹیکس نافذ کرنا شامل ہے۔
یہ ایک ہی سال میں سب سے بڑی مالی ایڈجسٹمنٹ ہے جو کہ 1.6 کھرب روپے کے سرمایہ اور اخراجات بمشول سود کی ادائیگی کے فرق پر مشتمل بنیادی خسارے کو رواں مالی سال کے دوران آئندہ مالی سال میں 152ارب روپے کے سرپلس میں تبدیل کرنے میں مدد کرے گی۔
اس میں ریٹیل دکانداروں، تاجروں، جیولرز، بلڈرز، ہوٹلوں، آٹوموبائل اور پراپرٹی ڈیلرز وغیرہ جیسے شعبوں کے لیے مقررہ ٹیکس نظام لانا بھی شامل ہے۔
وزارت خزانہ نے بجٹ میں 800 ارب روپے (جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد) صوبائی سرپلس کا تخمینہ لگایا تھا تاکہ مجموعی بجٹ خسارے کو جی ڈی پی کے 4.9 فیصد پر قابو کیا جا سکے لیکن 3 صوبوں، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا نے خسارے کے بجٹ یا سرپلس کا اعلان نہیں کیا، صوبوں کے اس اقدام نے پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ تقریباً 125 ارب روپے کے سرپلس کو بھی ختم کر دیا جو کہ اس کے حصے سے بہت کم تھا۔
لہٰذا وفاقی حکومت کو اب آئی ایم ایف کے ساتھ صوبوں کی جانب سے دستخط شدہ ایک ایم او یو شیئر کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ سے منظور شدہ فنانس بل پیشگی اقدامات کے طور پر دینا ضروری ہے، یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی فریم ورک میں پیش کیے گئے بجٹ نمبروں پر لازمی عمل کیا جائے گا۔
اس کے بعد دونوں فریق اگلے دو روز میں مشترکہ طور پر ایم ای ایف پی کا جائزہ لیں گے جس پر وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر کی جانب سے باضابطہ دستخط کے بعد آئی ایم ایف اسٹاف پاکستان کے کیس کو منظوری کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین کے سامنے پیش کرے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 91 کروڑ 8 لاکھ ڈالر یا 68 کروڑ 7 لاکھ ڈالر اسپیشل ڈرائنگ رائٹس، یا (ایس ڈی آرز) کی دو قسطیں پاکستان کو جولائی کے آخری اور اگست کے پہلے ہفتے میں ایک ساتھ دستیاب ہوں گی۔