- Advertisement -

وزیراعظم نے کہا ہے 3 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ برداشت نہیں ہوگی: قمرزمان کائرہ

- Advertisement -

مشیر امور کشمیر قمرزمان کائرہ نے رواں ہفتے کے آخر تک لوڈشیڈنگ میں کمی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اب 3 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ برداشت نہیں ہوگی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر قمر زماں کائرہ اور مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگ زیب نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے اور پاور ڈویژن سے متعلق ایجنڈے پر کابینہ کو مکمل طور پر تفصیلات بتائی گئی ہیں کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیدوارای صلاحیت 23 ہزار میگاواٹ ہے جو کہ جون کے مہینے میں جمع کی گئی تھی اور اسی مہینے میں بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ پر گئی تھی جو تاریخی طلب ہے
ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کی تجویز پر وفاقی کابینہ نے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی مالی سال کی آڈٹ کے لیے حسین اینڈ کپمنی کو منتخب کرکے آڈٹ کرنے کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک میں بجلی کی 23 ہزار 9 سو میگاواٹ پیدوارای صلاحیت ہے، اس میں سے 11 ہزار 600 میگاواٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت یعنی 2013 سے 2018 تک پیدا کی گئی جو موجودہ پیداواری صلاحیت سے آدھی ہے۔
 انہوں نے کہا کہ پچھلے 4 سال سے راگ الاپے گئے کہ بجلی کے زیادہ منصوبوں پر دستخط کیے گئے ہیں اور سسٹم میں زیادہ بجلی لے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے ایجنڈے میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے معاملات پر بھی بات ہوئی جس کی تجاویز کا اجلاس 29 جون 2022 کو منعقد ہوا تھا اور کابینہ نے ان کے تمام فیصلوں کی توثیق کی ہے، جس میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن کے فئنانس رولز، سروس رولز کی منظوری دی گئی ہے، اور پبلیکشن آف لاز آف پاکستان کی ترامیم بل 2022 اور قومی احتساب بیورو بل 2022 کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
مریم اورنگ زیب نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا جو اجلاس 24 جون 2022 کو ہوا اس کے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی ہے اور اس کی لیگل فریم ورک فار جی ٹو جی کمرشل ٹرانزیکشن ہے اس پر ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی خواجہ آصف کریں گے اور اس کے اندر تمام جی ٹو جی کمرشل ٹرانزیکشنز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی پر بھی بات ہوگی اور اس کے علاوہ 3 اور فیصلے ہیں جن میں ایک ہوٹل بھی شامل ہے، اس کی نجکاری پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے ای سی ایل میں شامل 5 لوگوں کے نام ہٹانے کے ایجنڈا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔
اس موقع پر قمر زماں کائرہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کابینہ کے اجلاس میں بجلی کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، پورے ملک میں موسم شدید گرم ہونے کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف میں اضافہ ہوا ہے، جس کا ہمیں بھرپور احساس ہے۔
قمر زماں کائرہ نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہے اور حکومت میں آنے سے قبل ہمیں معلوم تھا کہ کچھ فیصلے کرنے سے اس کے اثرات ضرور ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں یہ نہیں تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور یہ بھی کسی کے علم میں نہیں تھا کہ روس اور یوکرین کی جنگ طویل ہونے سے گیس کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی جس کی وجہ سے ہماری مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے جو نا اہلی اور نالائقی کے فیصلے کیے اس کی بدولت یہ تباہی پھیلی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں 1500میگاواٹ کے چند ایسے پرانے بجلی گھر ہیں، جو 60 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرتے ہیں اور جب تیل کی قیمتیں بڑھیں تو اس میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت نے وہ کارخانے بھی چلائے جن کو چلانے کا مطلب مجرمانہ عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 1500 میگاواٹ بھی شامل کیے جائیں جو مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں تو ہمارے پاس آج کے دن 25 ہزار میگاواٹ تک بجلی موجود ہو سکتی ہے لیکن حقیقی طور پر ہمارے پاس تقریباً 24 ہزار میگاواٹ بجلی موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے وہاں بجلی چوری کا بھی المیہ ہے جس کی قیمت بل ادا کرنے والوں کو ادا کرنی پڑتی ہے اور حکومت نے اس سال واپڈا کو نقصان کی مد میں 10 ہزار 72 ارب روپے دیے ہیں اور اس کے باوجود بھی 283 ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھا ہے جو کہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے لیکن قوم کے سامنے یہ بات بھی رکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کے کارخانے نہ تو اچانک سے لگائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اچانک سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں میں اضافہ کیا جاتا ہے مگر عمران خان کی حکومت کے 4 سال میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور جو منصوبے مکمل ہونے تھے وہ بھی ان کی غفلت کی وجہ س مکمل نہیں ہوئے اگر وہ مکمل ہو جاتے تو آج اتنی لوڈشیڈنگ نہ ہوتی۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پنجاب تھرمل کارخانے میں 26 مہینے تاخیر کی گئی جو کہ 1263 میگاواٹ کا ہے اور اسی طرح پاکستان کی اپنے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی تھر انرجی منصوبے کو بھی 17 مہینے کی تاخیر پر چھوڑ دیا گیا اور نووا پاور اور 1300 میگاواٹ کے شنگھائی منصوبے میں بھی 20 مہینے تاخیر کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ اب دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بہتر ہوا ہے تو امید ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک 2 ہزار میگاواٹ کے قریب سستی بجلی سسٹم میں آئے گی جس سے لوڈشیڈنگ کم ہوگی۔
قمر زماں کائرہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کچھ بھی کریں مگر 3 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ اب برداشت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آج یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اب پاکستان میں کوئی ایسا منصوبہ نہیں لگے گا جس میں بیرونی ملک سے آنے والا تیل استعمال ہوگا اور مقامی تیل کی بنیاد پر پلانٹس لگائے جائیں گے۔