نئی دہلی میں فسادات: ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی، شمال مشرقی علاقے فوجی چھاؤنی میں تبدیل

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کےخلاف احتجاج کے دوران ہنگاموں میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی۔

بھارتی حکومت نے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دہلی کے شمال مشرقی علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا جہاں پیرا ملٹری فورسز کی 35 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔

علاقےمیں اسپیشل سیل، کرائم برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ مقامی پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔

اس کے علاوہ احتجاج سے متاثر ہونے والے دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں گزشتہ روز سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔

نئی دہلی میں فسادات کے بعد بھارت کے یونین وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا جس میں نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروِند کجریوال نے بھی شرکت کی۔

نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروِند کجریوال نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ کئی پولیس اہلکار اور عام شہری زخمی اور اپنی جان گنواچکے ہیں، کئی گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ انہیں آگ بھی لگائی گئی، یہ سب انتہائی بدقسمتی ہے۔
اروِند کجریوال نے اپیل کی کہ مندروں اور مساجد کے اِرد گِرد رہنے والے شہری امن برقرار رکھیں۔

دوسری جانب شہر کی انتہائی خراب صورتحال کے پیش نظر نئی دہلی حکام نے شہری کے بھر کے اسپتالوں کے عملے کو الرٹ کردیا ہے جب کہ فائر بریگیڈ حکام کو پولیس سے رابطہ رکھنے اور متاثرہ مقامات پر فوری طور پر پہنچنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جن میں پولیس اہلکار رتن لال بھی شامل ہے جب کہ 64 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...