روپے کی قدر میں کمی: موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ

سعودی عرب کی جانب سے 6 ارب ڈالر کے معاشی پیکج کے بعد جہاں روپے کی قدر میں کچھ بہتری آئی تو وہی چینی موٹر سائیکلوں کے اسمبلرز نے گزشتہ دنوں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
 رپورٹ کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے موٹرسائیکلوں کے اسمبلر یونائیٹڈ آٹو انڈسٹری نے روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی خام سامان مہنگا ہونے کے باعث اپنی 70 سے 125 سی سی کی بائیکوں کی قیمتوں میں 3 سے 4 ہزار روپے تک کا اضافہ کردیا۔
اس کے علاوہ 100 سی سی موٹر سائیکل رکشہ کی قیمت میں بھی 5 ہزار روپے تک کا اضافہ کیا گیا، ان نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔
تاہم کمپنی نے ڈیلرز کو جاری اپنے سرکلر میں یہ پیشکش کی ہے کہ 31 اکتوبر سے قبل مکمل پیشگی ادائیگی کی صورت میں صارف پرانی قیمتوں پر بائک خرید سکتے ہیں۔
اسی طرح روڈ پرنس بائیکس بنانے والی کمپنی نے ڈیلرز کو قیمتوں سے متعلق آگاہ کیا تھا کہ 10 اکتوبر سے موٹرسائیکل کی قیمت میں ایک ہزار روپے اضافہ کیا گیا، تاہم کمپنی نے یہ فیصلہ کیا کہ 70 سے 125 سی سی موٹرسائیکل کی قیمتوں میں 2 سے 3 ہزار روپے کا اضافہ 10 نومبرسے کیا جائے گا۔
ہائی اسپیڈ موٹرسائیکل کمپنی نے اپنے سرکلر میں 5 نومبر سے 70 سے 150 سی سی موٹرسائیکل کی قیمتوں میں 3 سے 7 ہزار روپے اضافے کی تصدیق کی جبکہ نیو ایشیا آٹوموبائلز نے بھی 15 اکتوبر سے اپنے تمام برانڈز کی قیمتوں میں 3 ہزار روپے تک کا اضافہ کردیا۔
عہد موٹرز نے 20 اکتوبر سے میٹرو موٹرسائیکل کی قیمت میں 3 ہزار روپے اضافہ کردیا جبکہ کوثر آٹوموبائل نے یکم نومبر سے اپنی 70 سے 200 سی سی موٹرسائیکلوں کی قیمتوں میں 3 سے 10 ہزار روپے تک کا اضافہ کردیا ہے۔
اس تمام صورتحال پر چیئرمین ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) محمد صابر شیخ کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں حالیہ کمی کے باعث درآمدی سامان اور کٹس کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ مہینوں میں ایک ڈالر 125 روپے کی سطح پر آجاتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ اسمبلرز قیمتوں میں کمی کردیں‘
خیال رہے کہ 10 اکتوبر کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ساڑھے 7 فیصد کمی ہوئی تھی جبکہ 24 اکتوبر کو اس میں ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارکیٹ میں سخت مقابلے اور پیدواری لاگت میں اضافے کے باعث گزشتہ 10 برسوں میں 124 میں سے صرف 40 اسمبلرز اب کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھے اور وہ موٹرسائیکل کے شعبے کے لیے نئی پالیسی پر کام کرے۔
دوسری جانب ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث ہونڈا اٹلس کار لمیٹڈ نے اپنی مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
کمپنی کی جانب سے ڈیلرز کو بتایا گیا ہے کہ نومبر اور دسمبر کی ڈیلوریز کے لیے بی آر- وی پر 50 ہزار، سٹی پر 60 ہزار اور سوک پر ایک لاکھ روپے اضافہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح جنوری 2019 سے کی جانے ڈیلوریز میں بی آر- وی کے لیے مزید 50 ہزار، سٹی کے لیے 65 ہزار اور سوک کے لیے ایک لاکھ 10 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے۔
ادھر انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے بھی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں نومبر اور دسمبر کی ڈیلوریز میں 50 سے ایک لاکھ 75 ہزار تک کا اضافہ کیا جبکہ جنوری 2019 سے ہونے والی ڈیلوریز میں 1 سے ساڑھے 3 لاکھ تک کا اضافہ کیا گیا۔

تبصرے
Loading...