قدرت کے کاموں میں کون دخل دےسکا ہے ؟ ایک انسان کے سر کو دوسرے انسان کے دھڑ پر لگانے کا منصوبہ ناکام ، مگر یہ آپریشن کے دوران نہیں ہوا بلکہ ۔۔۔۔۔ خبر پڑھ کر آپ اللہ اللہ کر اٹھیں گے

لاہور(ویب ڈیسک) طب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زندہ انسان کے سر کی پیوندکاری کا تجربہ ادھورا رہ گیا ۔ کچھ عرصہ قبل اٹلی کے ایک نیورو سرجن سرجیو کینا ویرو نے یہ دعویٰ کرکے دنیا بھر کو چونکا دیا تھا کہ وہ بہت جلد ایک زندہ انسانی سر دوسرے جسم پرلگانے کا تجربہ کرنے والے ہیں

مگر انکے اس دعوے کو اس وقت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے جب اس تاریخی آپریشن میں سر کا عطیہ کرنے والے روسی شخص نے سر دینے سے انکار کر دیا ، اس روسی شخص نے بیوی اور بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر تجربے کےلئے سردینے کی حامی بھری تھی ، مگر اس شخص کو قدرت نے 6 ہفتے قبل ایک بیٹے سے نواز دیا اور مذکورہ شخص اور اسکی اہلیہ ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں ۔ اٹلی کے سرجن نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ انہوں نے پہلے یہ تجربہ فی الحال دو مردہ افراد کے سروں پر کیا اور اگلے مرحلے میں اسے ایک زندہ شخص پر آزمایا جائے گااور اس کے لئے سر کا عطیہ دینے کےلئے 33سالہ روسی نژاد ویلیری سپرنڈونوف تیار تھے، جو ریڑھ کی ہڈی سے وابستہ اعصاب کی ایک بیماری ویرڈنگ ہوفمن کا شکار ہیں۔ یہ بیماری لاعلاج ہے۔ ویلیری ایک کمپیوٹر ماہر ہیں جنہیں سرجن نے اس مشن میں سر عطیہ کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا مگر اب انکے انکار کے بعد ایک چینی رضاکار کو اس مقصد کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔ ویلیری نے اس مشن سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کچھ غلط ہونے جارہا ہے کیونکہ طبی دنیا اس پر اپنے خدشات کا اظہار کرچکی ہے کہ فی الحال سائنسی لحاظ سے ایسا ناممکن ہے ۔

ویلیری ایک کمپیوٹر ماہر ہونے کے علاوہ فلوریڈا یونیورسٹی میں تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں۔ان کی اہلیہ 30سالہ اناستا شیابھی کمپیوٹر کی ماہر ہیں اور وہ کیمیکل میں ماسٹرز ہیں۔انہوں نے ویلیری سے محبت کے اظہار کااعلان سوشل میڈیا پرکیا اور ایک سال قبل انہوں نے شادی کر لی ، ویلری کہتے ہیں کہ اس تجربے میں انتہائی خطرات تھے،وہ اپنی زندگی کو داؤ پر نہیں لگاسکتے تھے کیونکہ اس میں بچنے کے بہت ہی کم مواقع تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مردہ انسانی سروں کے تجربات کے دوران ایسی مشکلات دیکھنے میں آئیں جن کے بعد انہوں کے کافی سوچ بچار کی اور بالآخر اپنا ارادہ بدل دیا ۔ اطالوی سرجن سرجیونے اس منصوبے کا نام” سرکے انضمام کا منصوبہ“ رکھا جبکہ اس کا کوڈ ”ہیون“ تھا۔ انکے مطابق اس کی کامیابی اس پرمنحصر ہے کہ ایک نینو بلیڈ کی مدد سے ریڑھ کی ہڈی سے جڑے اعصاب کو کاٹا جائے اور پولیتھیلین گلیکول اور الیکٹریکل کرنٹ کے ذریعے انہیں دوبارہ اعصابی دھاگوں سے جوڑا جائے تاہم انسانی سر کی پیوندکاری کو مشکل ترین آپریشن قرار دیا گیا۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ سر کی پیوند کاری سے قبل ریڑھ کی ہڈی سے جڑے اعصاب کے حوالے سے مزید تحقیق انتہائی ضروری ہے کیونکہ متعدد اعصابی ڈوریوں کو دوبارہ جوڑنا ایک انتہائی مشکل اور پیچیدہ عمل ہے، خصوصاً ویگس اعصاب کو، جو نظام انہضام اور دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ایک چوہے کے سر کے اوپر دوسرا سر لگانے کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا تھا۔چین کی ہربن یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڑیاو پنگ رین نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ گزشتہ برس جنوری میں ایک بندر کا سر دوسرے بندر کے سر پر لگا چکے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں