- Advertisement -

لاپتا کوہ پیما شہروز کاشف اور فضل علی بیس کیمپ-III پہنچ گئے

- Advertisement -

دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگاپربت کامیابی سے سر کرنے کے بعد گزشتہ روز مہم سے واپسی پر لاپتا ہونے والے 2 پاکستانی کوہ پیما شہروزکاشف اور فضل علی کا پتا چل گیا ہے۔
ہوم سیکریٹری گلگت بلتستان اقبال حسین خان کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شہروز کاشف اور گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کے شمشال سے تعلق رکھنے والے فضل علی خیریت سے ہیں۔ہوم سیکریٹری نے کہا کہ بیس کیمپ سے ان کی نقل و حرکت دوربین پر دکھائی دے رہی ہے، بیس کیمپ میں موجود پولیس نے بھی اس کی تصدیق کی۔
ٹور آپریٹر اور بیس کیمپ کے عملے نے بھی تصدیق کی کہ دونوں کوہ پیما نانگا پربت پر محفوظ ہیں اور انہوں نے کیمپ 3 سے اترنا شروع کردیا ہے۔
ٹور آپریٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر سمٹ قراقرم سخاوت حسین نے بتایا کہ انہوں نے نانگا پربت بیس کیمپ کے عملے سے بات کی ہے، انہوں نے تصدیق کی کہ دونوں کوہ پیماؤں نے کیمپ 3 سے اترتے ہوئے دیکھا ہے۔
ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کی اور کہا کہ سرکاری ذرائع کے مطابق کوہ پیماؤں نے کیمپ 3 سے نیچے اترنا شروع کردیا ہے۔
شہروز کاشف اور فضل علی نے گزشتہ روز صبح 8 ہزار 123 میٹر بلند دنیا کے نویں بلند ترین پہاڑ نانگا پربت کو سر کرلیا تھا، چوٹی سر کرنے کے بعد کوہ پیما نیچے اتر رہے تھے جب 7 ہزار 200 میٹر کی بلندی پر ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطہ ممکن نہیں ہو پا رہا تھا اور ان کا جی پی ایس ڈیوائس بھی فعال نہیں تھا، جس کے سبب دونوں کوہ پیماؤں کے لاپتا ہونے کے شبے نے خوف و ہراس پیدا کردیا تھا۔
بعدازاں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ خالد خورشید خان نے ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ہوم سیکریٹری گلگت بلتستان اقبال حسین خان نے تصدیق کی تھی کہ شہروز کاشف اور فضل علی کیمپ 3 اور 4 کے درمیان اس وقت لاپتا ہوگئے جب وہ چوٹی سے اتر رہے تھے۔