اللہ کی دھرتی کا انوکھا نظام : اسرائیلی جیلوں میں برسہا برس سے قید فلسطینی اپنی نسل کی بقا اور بچے پیدا کرنے کے لیے کونسا طریقہ اختیار کرتے ہیں ؟ دنگ کر ڈالنے والا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) معلوم ہوا ہے کہ برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اپنی نسل کی بقاء اور افزائش کیلئے جیلوں سے اپنے نطفے اسمگل کرکے اہل خانہ کو بھیجتے ہیں جسے استعمال کرکے ان خاندانوں میں بچوں کی پیدائش یقینی بنائی گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے

مقبوضہ بیت المقدس میں ایسی ہی ایک فیملی کا انٹرویو کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس نے یہی طریقہ کار اختیار کیا اور ان کے یہاں دو بچوں کی ولادت ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں نا حق اور بلاجواز قید فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار کے قریب ہے۔ اکثر قیدی اپنی فیملی کو بچانے اور نسل کی افزائش کیلئے رہا ہونے والے ساتھی کے ہمراہ اپنا اسپرم اپنی فیملی کو بھجواتے ہیں جسے خواتین جدید ترین میڈیکل سہولتوں اور آئی وی ایف ٹیکنالوجی کے ذریعے استعمال کرتی ہیں جس کے نتیجے میں بچے کی ولادت ہوتی ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت اب تک سات بچوں کی ولادت ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے جبل المکابر کی رہائشی ایسی ہی ایک خاتون کا نام صائمہ مشاہرا ہے، ان کے شوہر کا نام فہمی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ ان کے یہاں اسمگل شدہ اسپرم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا نام ’’عید‘‘ رکھا گیا ہے جس کے عربی میں معنی مبارک دن ہے۔ فہمی اس وقت سے جیل میں قید ہیں جب ان کی بیٹی کی عمر

صرف ایک ماہ تھی۔ اسی طریقے کے ذریعے ان کے یہاں ایک بیٹی کی ولادت بھی ہو چکی ہے جس کا نام عزیزہ رکھا گیا ہے اور اب وہ پانچ برس کی ہے۔ صائمہ کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ دو بہنوں کے پاس ایک بھائی بھی ہے اور ان کا خاندان پورا ہوگیا ہے، دعا ہے کہ جلد شوہر قید سے رہا ہوں۔ مقبوضہ بیت المقدس سول کمیٹی برائے فلسطینی اسیران کے عہدیدار امجد ابو عصب نے بتایا کہ جیل میں قید فلسطینی زبردست جدوجہد کے نتیجے میں اپنے رہا ہونے والے ساتھی کے ذریعے Biomaterial (حیاتیاتی مواد) بھیجنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے بعد ان کی بیگمات آئی وی ایف کلینک کے ذریعے حمل کو یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک یہی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے سات بچوں کی ولادت ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 5500؍ فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ اسرائیل پر اکثر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ لوگوں کو انتظامی حراست کے نام پر طویل عرصہ تک قید کر لیتا ہے، ان پر کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے اور نہ ان کا ٹرائیل ہوتا ہے، عدالتی عمل بھی مشکوک ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں