میڈ اِن جاپان ضمیر ! ارشاد بھٹی

ایک طرف میاں نواز شریف، ایون فیلڈ ریفرنس ضمانت پر، فلیگ شپ میں بری، العزیزیہ 7سال قید، ساڑھے 3ارب جرمانہ،جائیدادیں ضبط، 10سال کیلئے نااہل، ہل میٹل کے اثاثے ضبط، العزیزیہ فیصلہ 131صفحات کا، فیصلہ بتائے، نواز شریف کا مؤقف جھوٹا، من گھڑت، منی ٹریل دینے میں ناکام، کوئی گواہ نہ ثبوت، فیصلہ کہے، گلف اسٹیل مل کی فروخت معاہدے کا دعویٰ جھوٹا،سرمایہ کاری قطریوں نے کی، ایک بینک ٹرانزیکشن بھی نہیں، میاں صاحب نے بچوں کے نام پر کمپنیاں بنائیں، کرپشن، کرپٹ پریکٹس،کرپٹ ہتھکنڈوں کے مرتکب پائے گئے، نوا ز شریف، حسن، حسین تینوں نے مل کر بدعنوانی کی، فیصلے میں یہ بھی، میاں صاحب جان بوجھ کر تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہ ہوئے، جان بوجھ کر بچوں کو اشتہاری کردیا،نواز شریف آئین کے آرٹیکل 129,119,117کے اصولوں پر پورے نہیں اترے، نواز شریف نے ہل میٹل کمپنی کا 88فیصد منافع جو سواارب بنے وصول کیااور اس کا اعتراف بھی کیا، فیصلے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت ِانصاف نے نواز شریف کو جھوٹا ثابت کر دیا،قطری شہزادے حماد بن قاسم الثانی نے گلف اسٹیل مل کی نقد فروخت اور سرمایہ کاری کے بارے میں حسن، حسین کے بیان کی تصدیق کے حوالے سے کوئی ثبوت نہ دیئے، العزیزیہ اور ہل میٹل کیلئے رقم کہاں سے آئی، کچھ پتا نہیں، جب دو کمپنیاں 22ملین ڈالر کی خریدیں، تب ہاؤس آف شریف کے پاس ڈکلیئر رقم تھی 8لاکھ 60ہزار ڈالر، باقی 21ملین ڈالر کہاں سے آئے، یعنی بینکوں سے قرضہ لیا یا کسی نے سرمایہ کاری کی، کوئی ریکارڈ نہیں اور فیصلے کے مطابق حسن، حسین کی گرفتاری یا پیش ہونے تک ریفرنس کا ریکارڈ عدالت میں ہی رہے گا۔

قصہ مختصر تینوں ریفرنسز میں 183سماعتیں، میاں صاحب پیش ہوئے 165مرتبہ، مگر بات وہی، پیسے کمائے کیسے، باہر بھجوائے کیسے، جائیدادیں خریدیں کیسے، کوئی جواب نہیں، رسیدیں کہاں، منی ٹریل کدھر، کوئی جواب نہیں، سرمایہ جدہ سے دبئی، دبئی سے لندن، قطر سے لندن کیسے آیاگیا،کوئی جواب نہیں،اپنے گواہوں حسن، حسین کو کیوں نہیں لا رہے، کوئی جواب نہیں، میاں صاحب کو سزا ہوئی تو بھارتی فلم ’داغ‘ کا گانا گنگناتے اور یہ کہتے ہوئے کہ ’’میرا ضمیر مطمئن ‘‘اپنی مرضی کی جیل کوٹ لکھپت جا پہنچے، جہاں بی کلا س، علیحدہ کمرہ، ٹی وی، اخبار، میز کرسی، بستر،ہیٹر اور تھوڑے فاصلے پر شہباز شریف منتظر، یہاں یہ بھی سنتے جائیے میاں صاحب جب کوٹ لکھپت جیل پہنچے تو استقبال کیلئے دو اڑھائی سولوگ، یہ استقبال لاہور میں، مسلم لیگ کا لاڑکانہ،جہاں پچھلے دس سال حکومت کی اور پورے پنجاب کے فنڈز لگے اور ہاں میاں صاحب کو گھر سے کھانا ملے گا، چلو یہ تو ٹھیک مگر وہ بچوں کو پڑھائیں گے، یہ زیادتی، ان پر کیا الزامات، وہ کیا پڑھائیں گے، بچے کیا سیکھیں گے۔

دوسری طرف زرداری صاحب اینڈ کمپنی، 2015میں ایف آئی اے نے جعلی اکاؤنٹس، مشکوک ٹرانزیکشنز پر انکوائری شروع کی،29جون 2018کو چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا،5ستمبر 2018کو نیب، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، ایف بی آر، آئی ایس آئی کے نمائندوں پر ڈی آئی جی احسان صادق کی زیرنگرانی جے آئی ٹی بنی، 24دسمبر 2018کو جے آئی ٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی، رپورٹ 128 صفحات کی، 9والیمز،27انوسٹی گیشن رپورٹس،جے آئی ٹی رپورٹ بتائے، 885افراد کو بلایا گیا،767سے تفصیلی پوچھ گچھ ہوئی، تحقیق، تفتیش پر پتا چلا 929افراد اورکمپنیوں کے 11ہزار 5 سواکاؤنٹس، جن کا تعلق 32جعلی اکاؤنٹس سے، 24ہزار 5سو سے زیادہ مشکوک ٹرانزیکشنز، جے آئی ٹی رپورٹ بتائے ’’زرداری صاحب منی لانڈرنگ ٹولے کے سربراہ، مراد علی شاہ، فریال تالپور اور انور مجید اہم رکن جبکہ بلاول بینفشری، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق نیشنل بینک، سندھ بینک، سمٹ بینک، زرداری اینڈ کمپنی کے اشاروں پر ناچتے رہے،کرپشن کی رقم بے نامی اکاؤنٹس میں جاتی، وہاں سے اومنی گروپ کے کاروبار، اثاثوں میں منتقل ہوتی رہی، انور مجید پیسے ہنڈی، حوالے کے ذریعے،دبئی منتقل کرتا، فرانس، لندن،کینیڈا، دبئی میں اثاثے بنائے گئے، سیاسی سرپرستی میں مشکوک اکاؤنٹس پر بینکوں سے80ارب کے قرضے لئےگئے، قرضوں کے سود کی ادائیگی مبینہ رشوت کے پیسوں سے کی گئی، مارچ 2008میں حکومت میں آنے سے پہلے اومنی گروپ کی ایک شوگر مل اور دوکمپنیاں تھیں، آج93کمپنیاں، صنعتیں، فیکٹریاں الگ، 95فیصد اثاثے، پیپلز پارٹی کے گزشتہ دس سالہ حکومت میں بنے، سندھ کی 35شوگر ملوں میں سے آدھی اومنی گروپ کی، مراد علی شاہ اور اومنی گروپ کا چولی دامن کا ساتھ، مبینہ طورپر اربوں کی ادائیگیاں کیں، گو کہ مراد علی شاہ وزیراعلیٰ مگر اصل حکمران انور مجید، جیل میں بیٹھ کر بھی سندھ حکومت چلاتے رہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق، رفاہی پلاٹوں کی بند ربانٹ، کرپشن، کمیشن، ٹھیکیداروں سے رشوت ایک طرف’کرپٹ ٹولے‘ نے غریب کسانوں کو بھی نہ بخشا،چینی پر سبسڈی کسانوں کو دینا تھی، خود لے لی، ٹریکٹروں پر سبسڈی کسانوں کو دینا تھی فی بڑا ٹریکٹر 3لاکھ، فی چھوٹا ٹریکٹر 2لاکھ کے حساب سے سبسڈی خود لے لی، پاور ہاؤسز منافع کی ایک الگ الف لیلہ، جے آئی ٹی رپورٹ میں بلاول ہاؤس کے کھانوں، یوٹیلیٹی بلوں، بلاول کے اپنے کھانے پینے، ان کے کتوں کی خوراک حتی کہ صدقے کے بکروں اورکپڑوں کی ڈرائی کلیننگ ادائیگیاں تک جعلی اکاؤنٹس سے، ڈیڑھ کروڑ ماہانہ بلاول ہاؤس کا خرچہ اومنی گروپ سے ادا ہورہا تھا، برتھ ڈے پارٹیاں، پاسپورٹ فیس حتی کہ ایمرجنسی لائٹس کے خرچے اومنی گروپ نے اٹھائے ہوئے، جے آئی ٹی رپورٹ بتائے، فریال تالپور کے اکاؤنٹ میں ایک ارب 20کروڑ آئے جس سے بلاول ہاؤس لاہور اور ٹنڈوالہ یار میں زمینیں خریدی گئیں۔

ایک لذیذ بات سنئے،جن اکاؤنٹس سے ایان علی کیلئے ٹکٹیں خریدی گئیں، انہی اکاؤنٹس سے بلاول کیلئے بھی ٹکٹیں خریدی جاتی رہیں، ایان علی سے یاد آیا، جب وہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر پکڑی گئی تو اسے چھوڑنے آیا تھا مشتاق مہر، ابھی چند دن پہلے ایان علی نے ایک ٹویٹ بھی کیا کہ ’’صرف مجھے کیوں، جو میرے ساتھ تھے، انہیں بھی پکڑا جائے، اس تصویری ٹویٹ میں مشتاق مہر بھی دکھائی دے رہا تھا ‘‘یہ مشتاق مہر زرداری صاحب کے دور صدارت میں ایوان صدر میں اسٹینوگرافر تھا، بعد میں گریڈ 16مل گیا،اسی مشتاق مہر کے اکاؤنٹ میں مبینہ طورپر سوا آٹھ ارب اوراس نے اومنی گروپ کے جہاز پر زرداری صاحب کے ساتھ 108مرتبہ سفر کیا، آجکل موصوف دبئی میں، یہاں یہ بھی سنتے جائیے، جے آئی ٹی رپورٹ آنے پر زردار ی صاحب اور بلاول کا ردعمل ’’ سب جھوٹ، ہمارا ضمیر مطمئن ‘‘۔

اب حیرانی یہ نہیں کہ ہاؤس آف شریفس نے کیا گل کھلائے، حیرانی یہ بھی نہیں کہ زرداری صاحب، فریال تالپور،مراد علی شاہ، اے جی مجید کی سرپرستی میں سیاستدانوں، سرکاری ملازمین، ٹھیکیداروں اور فرنٹ مینوں کے مافیانے سندھ کو نچوڑ کر رکھ دیا، حیرانی یہ بھی نہیں کہ حکمران مافیا نے ملک کا کوئی شعبہ نہ چھوڑا جہاں لٹ مار نہ کی، قبرستان تک بیچ دیئے، حیرانی اس پر بھی نہیں کہ ابھی بھی نوازشریف، آصف زرداری کے دفا ع ہورہے، کیونکہ حیرانی تو تب ہوتی اگر کچھ توقع کے برعکس ہوتا، انہوں نے جو کیا، یہی کرنا تھا، ہاں حیرانی یہ کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی نواز شریف اور زرداری صاحب کے ضمیر مطمئن، کمال ہے، دونوں ہاتھوں سے سلام، ان میڈاِن جاپا ن ضمیروں کو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں