رواں سال کورونا وائرس کی وجہ سے ڈیوائسز کی فروخت میں نمایاں کمی کا امکان

کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں 2020 کے دوران ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، ٹیبلیٹس اور موبائل فونز کی فروخت میں عالمی سطح پر 13.6 فیصد کمی آنے کا امکان ہے۔
ڈیوائسز کی فروخت پر نظر رکھنے والی کمپنی گارٹنر کی پیشگوئی کے مطابق رواں سال ایک ارب 90 کروڑ ڈیوائسز فروخت ہونے کا امکان ہے۔
کمپیوٹرز کی فروخت میں رواں سال 10.5 فیصد کمی کی توقع ہے، مگر گارٹنر کے مطابق یہ اس سے بھی زیادہ بدتر ہوسکتی ہے، جبکہ گھروں سے کام کرنے کے رجحان میں اضافے سے زیادہ نوٹ بکس، ٹیبلیٹس اور کروم بکس ڈیوائسز کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔
گارٹنر کے سنیئر ریسرچ ڈائریکٹر رنجیت اتوال نے کہا ‘کووڈ 19 کے باعث حکومتی لاک ڈاؤنز نے کمپنیوں اور تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان کی جانب سے عملے کو فراہم کرنے کے لیے نوٹ بکس، کروم بکس اور ٹیبلیٹس کی خریداری کے لیے خرچہ کیا جارہا ہے’۔
کمپنی نے یہ پیشگوئی بھی کی کہ موبائل فونز کی فروخت میں 14.6 فیصد کمی آسکتی ہے۔
اس بارے میں رنجیت اتوال نے کہا ‘اگرچہ لاک ڈاؤن کے دوران صارفین کی جانب سے دفتری ساتھیوں، دوستوں اور گھروالوں سے رابطوں میں اضافہ ہوا ہے مگر آمدنی میں کمی کے نتیجے میں کم افراد نئے فونز کو خریدنے کو ترجیح دیں گے’۔
یہ رجحان 5 جی فونز میں دیکھنے میں آسکتا ہے، تاہم سستے فائیو جی فونز لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں مگر 2020 میں 5 جی فونز کی فروخت مجموعی فروخت کا 11 فیصد حصہ رہنے کا امکان ہے۔
اس سے قبل 2020 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسمارٹ فون مارکیٹ کو تاریخ کی سب سے بڑی کمی کا سامنا ہوا تھا۔
رواں ماہ کے شروع میں جاری ہونے والے اسمارٹ فون مارکیٹ ریسرچر آئی ڈی سی کے تخمینے کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران اسمارٹ فون کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11.7 فیصد کمی آئی۔
یہ کمی متوقع تھی کیونکہ پہلے چین اس وبا کا مرکز بنا اور وہاں متعدد شہروں میں لاک ڈاؤن ہوا جس کے بعد یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا اور اب متعدد ممالک بند پڑے ہیں۔
صرف چین میں ہی پوری دنیا میں فروخت ہونے والے فونز کی 25 فیصد تعداد سپلائی ہوتی ہے جو اس سہ ماہی کے دوران گھٹ کر 20 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ مغربی یورپ میں فونز کی فروخت میں 18.3 فیصد اور امریکا میں 16.1 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
مجموعی طور پر اس سہ ماہی کے دوران 27 کروڑ 58 لاکھ فونز فروخت ہوئے اور 2014 کے بعد پہلی بار کسی سہ ماہی میں فروخت ہونے والے فونز کی تعداد 30 کروڑ سے کم رہی۔
اس سال توقع کی جارہی تھی کہ اسمارٹ فون مارکیٹ میں تیزی سے آئے گی جس کی وجہ 5 جی اور فولڈ ایبل فونز میں تنوع قرار دی جارہی تھی مگر مالی مشکلات اور کووڈ 19 کے نتیجے میں اسمارٹ فون کمپنیوں نے ڈیوائسز کی تیاری میں کمی کردی ہے۔
ماہرین کے مطابق نئے فونز کی طلب بہت زیادہ کم ہوگئی ہے اور لگ بھگ آدھی دنیا میں لاک ڈائون ہے جس کے نتیجے میں ڈیوائسز کی فروخت بہت کم ہوگئی ہے، اس وقت متعدد صارفین کے خیال میں نئے فون کو خریدنا ایک عیاشی ہے جس کی ابھی ضرورت نہیں۔
اس سہ ماہی کے دوران سام سنگ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر سب سے زیادہ اسمارٹ فون فروخت کرنے والی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔
اس سے قبل 2019 کی آخری سہ ماہی کے دوران ایپل نے فونز کی فروخت میں سام سنگ کو شکست دے دی تھی۔
اکتوبر سے دسمبر 2019 کے دوران ایپل نے 70.7 ملین آئی فونز دنیا بھر میں بھیجے جبکہ اس عرصے میں سام سنگ اسمارٹ فونز کی تعداد 68.8 ملین رہی۔
اس کے مقابلے میں جنوری سے مارچ کے دوران سام سنگ نے 58.3 ملین فونز فروخت کیے اور 21.1 فیصد شیئر کے ساتھ اپنی حکمرانی پھر سے قائم کرلی، تاہم فروخت میں 18 فیصد سے زائد کمی بھی ہوئی۔
اس کے بعد ہواوے 17.8فیصد مارکیٹ شییئر کے ساتھ تیسرے سے چھلانگ لگا کردوسرے نمبر پر آگئی جبکہ ایپل 13 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ پہلے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...