سعودی عرب کورونا وائرس پر تیزی سے قابو پانے لگا مملکت میں 62 ہزار سے زائد متاثرین مکمل صحت یاب ہوگئے ایکٹو کیسزاب صرف کتنے ہزار رہ گئے؟خوشگوار تفصیلات

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں صحت یاب کورونا مریضوں کا تناسب بڑھ گیا،مملکت میں اب تک 62 ہزار سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہوگئے، جبکہ پچھلے 24 گھنٹے میں صرف 3559 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ سعودی وزارت صحت کے مطابق سعودی حکومت بروقت اور بہترین انتہائی اقدامات کے باعث کورونا وائرس کا پھیلاؤ کنٹرول کرنے میں کامیابی کی جانب رواں دواں ہے۔

حکومتی پالیسیوں کے باعث جہاں کورونامریضوں کی یومیہ تعداد میں کمی ہوگئی ہے، وہاں ہسپتالوں میں بہترین سہولیات اور ٹیسٹنگ میں اضافے سے کورونا مریضوں میں صحت یابی کا تناسب بھی بڑھ گیا ہے۔ نئے اعدادوشمار کے تحت سعودی عرب میں 1877 نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس سے کورونا مریضوں کی کل تعداد بڑھ کر 85 ہزار 261 ہوگئی ہے۔

کورونا کے نئے رپورٹ ہونے والے مریضوں میں جدہ میں 586کیسز رپورٹ ہوئے۔ریاض میں 504کیسز اور باقی دوسرے صوبوں میں کیسز سامنے سامنے آئے۔اسی طرح پچھلے 24گھنٹے میں23 مریض انتقال کرگئے، جس سے مجموعی اموات کی تعداد 503 ہوگئی ہے۔جبکہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 3559 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ جس سے صحت یاب مریضوں کی تعداد 62ہزار442 ہوچکی ہے۔یوں ایکٹو کیسز کی تعداد 22819 رہ گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت صحت نے وضاحت کی ہے کہ سرڈھانپے کے لیے استعمال ہونے والا رومال جسے کوفیہ اور الشماغ بھی کہا جاتا ہے کرونا کی وباء میں ماسک کا متبادل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح خواتین نقاب کو ماسک کا متبادل بنا سکتی ہیں تاہم دونوں صورتوں میں بہتر ہے کہ طبی ماسک کا استعمال کیا جائے تاکہ وبا کے اثرانداز ہونے کے کم سے کم خطرات ہوں۔
عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی ہیلتھ سینٹر937 کی ویب سائٹ کے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ پر ایک سائل کے استفسار پر محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ شماغ اور نقاب کو ماسک کے متبادل کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ نقاب اور شماغ چہرے اور ناک کو مکمل طورپر ڈھانپ لے۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ کرونا پروٹوکول کے تحت وبا پرقابو پانے کے لیے وضع کردہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ، ماسک نہ پہننے، سماجی فاصلوں کا خیال نہ رکھنے اور اپنا ٹمپریچر چیک نہ کرانے والے افراد کو ایک ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...