نان فائلرز کے خلاف اقدامات سخت، ایف بی آر کا نئی منصوبے پر غور

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نان فائلرز کے خلاف اقدامات سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر نے نان فائلرز، بے نامی دار، ٹیکس چوروں اور بڑی ٹرانزکشنز کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ٹیکس انفارمیشن پروسیسنگ یونٹ قائم کر لیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کی چھان بین کے لیے ایف بی آر میں آئی ٹی ماہرین تعینات کیے جائیں گے، خود کار نظام کے تحت بیرون ملک سفر اور نئی گاڑیاں خریدنے والوں کو نوٹسز بھیجے جائیں گے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیلڈ فارمیشن سے حاصل ڈیٹا کی آئی ٹی کی مدد سے جانچ پڑتال کی جائے گی، اور خود کار نظام کے ذریعے ہی نوٹسز جاری اور جرمانے کیے جائیں گے۔
ٹیکس کے سلسلے میں 51 سو ارب کا مجوزہ ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے حاصل کرنے کے لیے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
اتوار کو ایف بی آر نے مئی 2020 میں وصول ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی تفصیلات جاری کی تھیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں رواں سال مئی تک 7.7 فی صد اضافہ ہوا، مئی 2020 میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں کُل 227 ارب روپے حاصل ہوئے۔ ایف بی آر کے مطابق رواں سال مئی 2020 تک کُل حاصل کردہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز 3518 ارب روپے ہیں، گزشتہ سال ٹیکسز اور ڈیوٹیز 3266 ارب روپے تھیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...