- Advertisement -

ای سی سی نے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 335 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی

- Advertisement -

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 335 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی، فیصلے سے یکم جولائی سے رواں مالی سال کے دوران 2 گیس کمپنیوں کو تقریباً 666 ارب روپے کی آمدن ہوگی۔
اس اضافے سے 2 گیس یوٹیلیٹیز سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کو رواں مالی سال کے دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے کی گئی گزشتہ سال کے نقصانات کی جزوی وصولی کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کی درخواست پر مقرر کردہ 546 ارب روپے سے 120 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔
نظرثانی شدہ نرخوں کا نوٹی فکیشن عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد وفاقی کابینہ کی توثیق کے بعد جاری کیا جائے گا جبکہ قانون کے تحت یہ 13 جولائی تک قانونی طور پر لاگو ہونا ضروری ہیں۔
 
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 5 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے اس ٹینڈرز کو بھی ختم کردیا جس کی اس نے دو روز قبل اجازت دی تھی۔ ٹینڈرز، جو پہلے 43 ہزار 940 ڈالر فی ٹن پر منظور کیے گئے تھے، عالمی سطح پر گندم کی مسلسل گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے لیے نئے ٹینڈر جاری کرے۔
ای سی سی کے فیصلے کے مطابق درآمدی اور غیر درآمدی سیکٹرز کے لیے گیس کے نرخ اب 100 روپے فی یونٹ یا ملین برٹش تھرمل یونٹس (ایم ایم بی ٹی یو) سے کم کر کے بالترتیب ایک ہزار 350 روپے اور ایک ہزار 550 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کردیے جائیں گے، جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 450 اور ایک ہزار 650 روپے کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
یہ نرخ اب بھی بالترتیب 852 روپے اور 1087 روپے فی یونٹ کے موجودہ نرخوں سے 58 فیصد زیادہ ہوں گے۔
فیصلے کے تحت 50 کیوبک میٹر تک کے سب سے کم رہائشی سلیب کے لیے گیس کے نرخ 171 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے وصول کیے جائیں گے جو موجودہ 121 روپے فی یونٹ کی شرح سے 43 فیصد زیادہ ہے، اضافے سے صارفین کے ماہانہ بلوں میں 36 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ 100 کیوبک میٹر کا اگلا سلیب 300 روپے فی یونٹ پر برقرار رہے گا۔
تیسرا سلیب (200 کیوبک میٹر) اور چوتھا سلیب (300 کیوبک میٹر) 26 فیصد اور 151 فیصد بڑھ کر 696 روپے اور ایک ہزار 856 روپے فی یونٹ ہوجائے گا۔
آخری موجودہ سلیب کو 400 کیوبک میٹر کی ماہانہ کھپت کے ساتھ تمام صارفین کے لیے ایک میں ضم کر دیا گیا ہے اور ان پر 3 ہزار 712 روپے فی یونٹ کی شرح سے چارج کیا جائے گا جو تقریباً ایل این جی کی لاگت کے برابر ہے۔
400 کیوبک میٹر تک استعمال کرنے والوں سے اس وقت فی یونٹ ایک ہزار107 روپے وصول کیے جاتے ہیں جنہیں اب 335 فیصد اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے بلوں میں 346 فیصد اضافہ ہوگا۔
400 کیوبک میٹر سے اوپر کے لیے فی یونٹ ریٹ فی الحال ایک ہزار 460 روپے فی یونٹ چارج کیا گیا تھا، جسے اب 154 فیصد اضافے سے 3 ہزار 712 روپے فی یونٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔