- Advertisement -

الیکشن کمیشن کا پنجاب میں ضمنی انتخاب پرانی انتخابی فہرستوں پر کرانے کا اعلان

- Advertisement -

الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب کے 20 حلقوں میں پولنگ پرانی انتخابی فہرستوں کی بنیادوں پر کرائی جائے گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ایک بیان میں کہا کہ ووٹوں کے اندراج سے متعلق میڈیا رپورٹس ‘بے بنیاد اور عوام کو گمراہ کرنے کے پروپیگنڈے پر مبنی’ ہیں۔
ای سی پی کے ترجمان ہارون شنواری نے نشاندہی کی کہ انتخابی فہرستیں پولنگ شیڈول کے اعلان کے بعد منجمد کر دی گئیں اور قانون کے تحت ان میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی عمل کے اختتام تک کوئی ووٹ شامل یا نکالا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ووٹرز کی تفصیلات میں کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔
ووٹرز کی رجسٹریشن سے متعلق ‘پروپیگنڈے’ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ترجمان ای سی پی نے کہا کہ کمیشن دیگر اداروں کے تعاون سے پنجاب کی 20 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
ای سی پی کے ایک عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کی تیز رفتار مہم پارٹی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس سے منسلک دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ فنڈنگ کیس میں کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد ای سی پی اور اس کے سربراہ کے خلاف تنقید ایک نئی سطح پر چلی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیس کا فیصلہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر میرٹ پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں بشمول اس کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دنوں میں آئندہ ضمنی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے میں مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
انہوں نے ووٹرز لسٹوں میں تبدیلی اور حکمران جماعتوں کی حمایت سے 17 جولائی کے انتخابات میں حصہ لینے والے پی ٹی آئی کے سابق قانون سازوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریاستی مشینری کے استعمال کا بھی الزام لگایا ہے۔