- Advertisement -

رانا ثنا اللہ کا منشیات کیس کے حوالے سے آرمی چیف سے شکایت

- Advertisement -

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ان پر ہیروئن کا جھوٹا اور بوگس مقدمہ بنایا تھا اور کہا ہے کہ اس کیس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے کردار پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کی ہے۔
رانا ثنا اللہ کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پچھلی حکومت میں جولائی 2019 میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، اے این ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی گاڑی سے 15 کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی ہے، بعدازاں، لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) نے انہیں ضمانت دی تھی۔
لاہور میں منشیات کو کنٹرول کرنے والی خصوصی عدالت نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو 23 جولائی کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر لیا ہے۔
 
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے الزام عائد کیا تھا کہ اس مقدمے کے پیچھے سابق وزیراعظم ہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے انٹرویو میں کہا تھا کہ رانا ثنا اللہ پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا جس کے بعد اس معاملے پر دوبارہ سیاسی مباحثے شروع ہو گئے ہیں۔
پروگرام کے میزبان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنا اللہ کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ کیس نہیں بننا چاہیے تھا۔
رانا ثنا اللہ نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں پی ایم ایل (ن) کے دعوے کو دہرایا کہ اس بوگس کیس کا ماسٹر مائنڈ عمران خان تھا جبکہ سابق مشیر برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر اور سابق ڈائریکٹر جنرل اے این ایف بھی اس میں شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر نے وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو 15 کلو ہیروئن کا بیگ میری گاڑی میں رکھنے پر مجبور کیا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا، یہ کارروائی سابق وزیراعظم کی ہدایت پر کی گئی تھی جو ذاتی دشمنی کی وجہ سے مجھے سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے تھے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اس مقدمے میں اے این ایف کے کردار کے حوالے سے آرمی چیف سے بات کی ہے اور خط بھی لکھا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے دعوے کے جواب میں شہزاد اکبر نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘کابینہ کے اجلاس میں فواد چوہدری کے علاوہ دیگر اراکین بشمول میرے کیس کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا، رانا ثنا ویسے تم جانتے ہی ہو تمہارے اوپر کیسں بنانے والااور عمران ریاض خان کو گرفتار کرنے والا ایک ہی ہے ہمت کرو نام لو اپنے مجرم کا’۔